ایک ہزار قابل انسان مر جانے سے اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا ایک نااہل کے صاحبِ اختیار ہو جانے سے ہوتا ہے

پاکستانی عوام کی مشکلوں کا جال سودی نظام ہے!
کالم نگار: ظفر اقبال ظفر

ایک بااصول غریب مسلمان ریاست پر دنیاوی مفادات میں لپٹے ہوسِ اقتدار کے مریض سیاستدان نے مقامی لوگوں سے ترقی کے نام پر حکومت کرنے کی سیاست شروع کی اور کاروباری افراد کو مالی آمدنی کی غرض میں ساتھ دینے کی تلقین کی تو لوگوں نے کہا کہ یہاں رہنے والے مسلمانوں کے دنیاوی حالات مالی ترقی یافتہ نہیں، مگر ان کے ایمان آسمانی ترقی تک پہنچے ہوئے ہیں۔ جب بھی کوئی ظالم حکمران ان پر حکومت کرتا ہے تو یہ خدا کے حضور پیش ہو کر چھٹکارے کی دعا کرتے ہیں اور وہ حکمران گرفت میں آ جاتا ہے۔

اُس سیاستدان نے آسمانی گرفت سے بچنے کے لیے بندوں کا خدا سے تعلق تڑوانے کے لیے ایک ترکیب سوچی اور وہاں کے تمام پانی والے کنوؤں پر اپنے خرچے سے بندے کھڑے کر دیے، جو ہر آنے والے کو کنویں سے پانی نکال کر دیتے۔ لوگوں کے ذہنوں میں سہولت کی عملی شکل دیکھ کر سیاستدان کے بارے میں خدمت گار کا گمان پیدا ہو گیا۔ عوامی اعتماد کی اس فضا کے بنتے ہی اس سیاستدان نے اعلان کیا کہ ہم عوامی خدمت کے عمل کو وسعت و نکھار دینے کے لیے تمام کنوؤں سے پانی نکالنے والے پرانے سامان کو نئے اور بہتر سامان میں بدل رہے ہیں۔ عوام خوش ہوئی کہ اتنا خیرخواہ اور بے لوث خدمت گزار انتظامی امور سنبھال لے، ہم اسے موقع دیتے ہیں۔

اور پھر اس سیاستدان نے تمام کنوؤں سے پانی نکالنے والے (بوکے)، جو بالٹی کی شکل میں اونٹ کے چمڑے سے بنے تھے، انہیں ہٹا کر سور کی کھال کے چمڑے سے بنوا کر کنوؤں میں لگوا دیے۔ چالیس دن تک سور کے چمڑے کے بوکوں سے پانی نکال کر عوام کو پلاتے رہے۔ حرام جانور کے چمڑے کی نحوست پانی میں اور پانی مسلمانوں کے پیٹوں میں پہنچنے کے بعد ان کے اندر سے وہ روحانی طاقت جاتی رہی جس کی بدولت ان کی دعائیں خدا تک پہنچتی تھیں، تو دنیا دار ظالم حکمران کی پکڑ ہو جاتی۔

اس کے بعد اُس حکمران نے جن سرمایہ کاروں سے کنوؤں کے سامان پر خرچہ کروایا تھا، انہیں کنوؤں کا قبضہ دے دیا اور انہوں نے عوام سے پانی کے پیسے لینا شروع کیے۔ ان پیسوں سے ٹیکس حکمران لینے لگا۔ جب عوام نے اس کو ظلم قرار دیتے ہوئے خدا سے دعائیں کیں تو وہ خدا تک پہنچتی ہی نہیں تھیں اور یوں ساری عوام ظالم حکمران کے شکنجے میں پھنس گئی۔ پھر بنا کچھ عوام کو دیے، عوام کی ہر چیز پر ٹیکس لگاتا اور بڑھاتا چلا گیا۔ مجبور و بے بس عوام حکومت کے ظلم کے آگے دیوار کرنے کی بجائے اس کا ظلم آپس میں تقسیم کرتے چلے گئے۔

پاکستانی مسلمانوں کے ساتھ حرام سور کی کھال میں پانی پلا کر روحانی قوت ختم کرنے سے بھی اوپر کی واردات ڈالی گئی۔ انہیں ذاتی وسائل و قابلیت، زمینی ذخائر جیسے درجنوں حلال طریقے اور راستے نظر انداز کر کے اسلام و مسلمان دشمن قوتوں کی مدد سے سیدھا خدا کے ساتھ جنگ کرنے والے عمل میں مبتلا کر دیا گیا۔ یعنی ترقی کے نام پر ملکی و قومی غیرت گروی رکھوا کر سودی قرضوں کو لایا گیا۔ کچھ لگایا گیا، کچھ کھایا گیا اور پھر آج تک پاکستانی نسلیں سودی قرضوں تلے دب گئیں۔ نتائج میں ملکی انتظامی امور پر فری بجلی، گیس، پٹرول، مراعات لینے والا قابض طبقہ امیر سے امیر تر ہوتا چلا گیا اور غریب مڈل کلاس طبقے بے روزگاری، مہنگائی، خودکشیاں، قتل و غارت، چوریاں، ڈاکے، ناانصافیاں، ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی عزتیں داؤ پر لگ گئیں۔ اس نظام کو برپا کرنے والوں کو سزائیں دینے کی بجائے اس کے خلاف کام یا آواز اٹھانے والوں کو ملکی ترقی کا غدار سمجھ کر وہ عبرت ناک سلوک کیا جاتا ہے کہ عوام اصلاح کا حصہ بننا جرم سمجھتے ہوئے درد سہنے پر مجبور ہیں اور اس کوفت و گھٹن زدہ حالات سے نجات کا کوئی آسمانی معجزہ رونما نہیں ہوتا، کیونکہ خدا اپنے ساتھ اعلان جنگ کرنے والے سودی نظام میں زندگی گزارنے والوں کی کیوں مدد کرے؟

اس ملک کے اندر عبادتوں کا سامان، ٹوپی، تسبیح، جائے نماز، یہاں تک کہ قرآن پاک کی کتابی شکل بھی خریدتے ہیں تو اس کی تیاری میں کاغذ، سیاہی، کلر، جلد، بجلی سمیت تمام لوازمات میں سودی شرح فیصد پر مبنی ٹیکس شامل ہیں۔ مساجد میں اذان، نماز، قرأت، بیان جو مائیک پر پڑھے جاتے ہیں، ان پر استعمال بجلی کے بلوں میں بھی سودی ٹیکس کی ادائیگی شامل ہوتی ہے۔

خدا نے آج تک کسی قوم کی پکڑ عبادات میں کمی یا غفلت کی وجہ سے نہیں کی، جتنی بھی قوموں پر عذاب آئے، ناپ تول، ملاوٹ، بددیانتی، گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی، غش، مصنوعی مہنگائی جیسے گناہوں کی وجہ سے آئے۔ پاکستان میں یہ سب گناہ بھیانک روپوں میں ہو رہے ہیں۔ کوئی مسلمان کسی مسلمان سے خریداری کے بعد معیار اور قیمت پر مطمئن نہیں ہوتا۔ واپسی، تبدیلی کی سنت مسلم تاجروں کا اصول ہوا کرتی ہے۔ جس پیٹ میں ایک لقمہ حرام کا چلا جائے، اس کی چالیس دن تک دعا قبول نہیں ہوتی اور ہمارے ہاں سودی ٹیکس کی شراکت کے بغیر کوئی خریداری و فروخت نہیں ہوتی۔ یہ حرام سے بھی اوپر کی نحوست ہے، جس کی وجہ سے مسجدوں، مدرسوں، مذہبی مقامات و اجتماعات میں مانگی جانے والی دعائیں قبول نہیں ہو رہی ہیں۔

یہ لمحہ فکریہ ہی نہیں، لمحۂ توبہ و تبدیلیٔ اعمال ہے کہ خانہ کعبہ و مسجد نبوی میں مسلمانوں کی کشمیر، فلسطین جیسے تمام متاثر مسلم ممالک کے لیے مانگی جانے والی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ اس میں مقدس مقامات و عبادات کی فضیلت پر کوئی شک نہیں، نہ وہ بے فیض ہیں۔

جیسے ہم گندے برتن میں دودھ نہیں ڈالتے، ایسے خدا سودی نظام میں جینے والوں پر نظرِ برکت نہیں ڈال سکتا۔ ہم سودی نظام میں مجبور ہیں تو وہ خدا اپنے نوری نظام میں مجبور ہے۔ میرا تو اُس سوچ پر لعنت برسانے کو جی چاہتا ہے جو غلیظ نظام سے اوپر اٹھنے کی بجائے خدا کو اُس کے مقام سے نیچے لا کر اپنے ساتھ سمجھتی ہے۔ جب تک سودی نظام و معاملات سے توبہ نہ کی، مسلمانوں کے لیے عزت و سکون پیدا نہیں ہو سکتے۔

نالائق حکمرانوں کی بے انتہا مہنگائی کے باوجود سودی قرضوں کے بغیر ملک چلایا نہیں جا رہا اور ہر پاکستانی بجٹ میں سودی قرضوں کی وصولی کے لیے آئی ایم ایف کے غیر مسلم نمائندے طے کرتے ہیں کہ پاکستان کے مسلمانوں نے کون سی چیز کتنے کی خریدنی ہے۔ یہ اُن نااہل سیاست دان اور نظام کنٹرولر لوگوں کی وجہ سے ہو رہا ہے جن کے بارے میں مولانا جلال الدین رومیؒ نے فرمایا کہ:

ایک ہزار قابل انسان مر جانے سے اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا ایک نااہل کے صاحبِ اختیار ہو جانے سے ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے