سنگل ٹیچر سکول اور خالی آسامیاں، ضلع خیبر کا تعلیمی نظام مشکلات کا شکار

لنڈی کوتل (کیو این این ورلڈ/بیورورپورٹ) آل ٹیچرز ایسوسی ایشن (اے ٹی اے) ضلع خیبر کے رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اساتذہ کی شدید کمی کے باعث ضلع خیبر کے 37 گرلز سکول بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، جبکہ متعدد سرکاری سکول سنگل ٹیچر سسٹم کے تحت چل رہے ہیں، جو صوبائی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ تعلیمی ایمرجنسی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

ان خیالات کا اظہار اے ٹی اے ضلع خیبر کے نائب صدر ملک نادر شاہ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری خیراللہ، پریس سیکرٹری آمین الحق، اے ٹی اے لنڈی کوتل کے سینئر نائب صدر شاد اکبر، آفس سیکرٹری ارشاد خان، قاری ظہور الرحمان اور دیگر رہنماؤں نے ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل (رجسٹرڈ) میں منعقدہ "میٹ دی پریس” پروگرام کے دوران کیا۔

رہنماؤں نے کہا کہ ضلع خیبر کے بیشتر سرکاری سکول اس وقت صرف ایک استاد کے سہارے چل رہے ہیں، جبکہ بازار زخہ خیل، شلمان اور دیگر دور افتادہ علاقوں میں لڑکوں کے سکولوں میں بھی سنگل ٹیچر ہی تدریسی فرائض انجام دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال نہ صرف تعلیمی نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ہزاروں طلبہ و طالبات کے تعلیمی مستقبل کے لیے بھی خطرناک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً 37 گرلز سکول ایسے ہیں جہاں تدریسی عملہ نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ بندش کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ان سکولوں کی بندش سے علاقے میں بچیوں کی تعلیم شدید متاثر ہوگی۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں، منتخب نمائندوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے فوری کردار ادا کریں تاکہ بعد میں پچھتاوے کی نوبت نہ آئے۔

اساتذہ تنظیم کے رہنماؤں نے کہا کہ ایک جانب حکومت داخلہ مہم چلا کر بچوں کو سکولوں میں لانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب سکولوں میں بنیادی سہولیات اور تدریسی عملے کی شدید کمی موجود ہے۔ ان کے مطابق تعلیمی ایمرجنسی کا حقیقی مقصد اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک سکولوں کو مطلوبہ سہولیات اور اساتذہ فراہم نہ کیے جائیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اساتذہ کے تبادلے مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کیے جائیں اور اس عمل میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ کیا جائے تاکہ اساتذہ ذہنی دباؤ سے آزاد ہو کر تدریسی سرگرمیوں پر توجہ دے سکیں۔ انہوں نے ای ٹرانسفر پالیسی پر نظرثانی اور روٹیشن پالیسی متعارف کرانے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو بھی قریبی علاقوں میں تعیناتی کے مساوی مواقع مل سکیں۔

اے ٹی اے رہنماؤں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اساتذہ کے ساتھ اپ گریڈیشن کے حوالے سے کیے گئے وعدوں کو فوری طور پر پورا کیا جائے۔ اس کے علاوہ ضلع خیبر کے 13 ایس پی ایس ٹی اساتذہ کے پوزیشن کوڈز کا مسئلہ بھی ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے اور تعلیمی ایمرجنسی کو محض اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے نافذ کیا جائے۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر تعلیمی شعبے کے مسائل کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو ضلع خیبر میں تعلیم کا معیار مزید متاثر ہوگا اور خصوصاً بچیوں کی تعلیم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے