آپریشن بنیان المرصوص: پاکستان کی جنگی اور سفارتی کامیابی
تحریر: نصیب شاہ شینواری
پاکستان نے بھارت کے آپریشن سندور کے جواب میں بھارت کے خلاف “بنیان المرصوص” لانچ کیا، جو پاکستان کی جنگی حکمتِ عملی اور سفارتی محاذ پر بھارت کے خلاف اہم کامیابی اور عالمی سطح پر پاکستان کی جنگی اور سفارتی میدان میں ایک نمایاں کامیابی سمجھی جاتی ہے۔
بھارت نے بزدلوں کی طرح 7 مئی 2025 کی رات ایک بجے “آپریشن سندور” شروع کیا، جس کے تحت پاکستان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں مساجد اور سول آبادی کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، بہاولپور اور دیگر مقامات پر بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
بھارتی حملوں کے نتیجے میں 11 پاکستانی فوجی جوان شہید جبکہ 40 شہری بھی شہید ہوگئے۔ اس کے علاوہ بعض مساجد اور شہری انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا۔
پاکستان نے 10 مئی 2025 کو بھارتی بزدل فورسز کو سبق سکھانے کے لیے آپریشن سندور کے جواب میں “آپریشن بنیان المرصوص” کا آغاز کیا اور بھارتی فورسز اور مودی حکومت کو وہ سبق سکھایا جو تاریخ میں سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا۔
“بنیان المرصوص” عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مفہوم “سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار” ہے۔ اس آپریشن کے نام نے ہی یہ پیغام دیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں، خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے متحد اور مضبوط ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ اور بحریہ نے مشترکہ کارروائی کے دوران بھارتی اہداف کو نشانہ بنایا۔
پاکستان کی جوابی کارروائیوں میں بھارت کے 6 طیارے اور 84 ڈرون تباہ کیے گئے، جبکہ 15 بھارتی فضائی اڈوں اور 6 عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ معرکۂ حق میں بھارت کے S-400 ایئر ڈیفنس سسٹمز اور دیگر اہم دفاعی مراکز کو نقصان پہنچایا گیا۔
موجودہ دور میں جنوبی ایشیا ایک بار پھر شدید کشیدگی، سفارتی دباؤ اور عسکری تناؤ کے دور سے گزر رہا ہے، جہاں پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کی جانب سے کیے گئے “آپریشن بنیان المرصوص” کو نہ صرف عسکری میدان میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے بلکہ سفارتی سطح پر بھی اسے پاکستان کی بڑی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین، سیاسی تجزیہ نگاروں اور بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اس آپریشن نے واضح کر دیا کہ پاکستان دفاع، سفارت کاری اور اطلاعاتی جنگ تینوں محاذوں پر متحرک اور مؤثر حکمتِ عملی اپنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عسکری ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے دوران افواجِ پاکستان نے جدید دفاعی نظام، انٹیلی جنس معلومات اور مربوط جنگی حکمتِ عملی کے ذریعے دشمن کی ممکنہ کارروائیوں کا بروقت اور مؤثر جواب دیا۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں پاکستان نے روایتی جنگی تیاری کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی، ڈرون نگرانی، فضائی دفاعی نظام اور سائبر مانیٹرنگ کو بھی استعمال کیا، جس سے دشمن کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی گئی۔
بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے اس آپریشن نے پاکستان کی دفاعی تیاری اور فوری ردعمل کی صلاحیت کو عالمی سطح پر نمایاں کیا اور جنوبی ایشیا میں اپنے مضبوط دفاعی نظام کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔
اس آپریشن میں پاکستانی فورسز نے بھارت کے جنگی طیارے بھی مار گرائے، جس کی عالمی سطح پر تصدیق بھی ہوئی۔
امریکا کے صدر Donald Trump نے بھی پاکستانی فورسز کی طرف سے بھاری جنگی طیارے گرانے کی تصدیق کی، اور ٹرمپ نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کے دوران کئی دفعہ یہ ذکر کیا کہ پاکستان نے بھارت کے رافیل طیارے بھی مار گرائے ہیں۔
پچھلے سال مئی 2025 میں علاقائی کشیدگی کے دوران بھارت کی جانب سے سخت بیانات اور جارحانہ سفارتی مہم بھی دیکھنے میں آئی، تاہم پاکستان نے اس صورتحال میں نسبتاً متوازن اور ذمہ دارانہ مؤقف اپنایا۔دفتر خارجہ، عسکری ترجمانوں اور حکومتی نمائندوں نے عالمی برادری کے سامنے مسلسل یہ مؤقف رکھا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے، لیکن اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔سفارتی محاذ پر پاکستان نے United Nations، Organisation of Islamic Cooperation، China، Turkey، Saudi Arabia اور دیگر اہم ممالک کے ساتھ رابطوں کو تیز کیا۔ پاکستانی سفارتی کوششوں کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا تھا کہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق کئی عالمی طاقتوں نے دونوں ممالک کو تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا مشورہ دیا، جسے پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کی جانب سے عالمی امن کے لیے انتھک کوششوں کو سراہا۔
بین الاقوامی میڈیا میں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھی گئی۔ متعدد عالمی اداروں اور تجزیہ کاروں نے پاکستان کے نسبتاً محتاط اور دفاعی مؤقف کو سراہا، جبکہ بعض مبصرین نے بھارت کی سخت گیر پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان نے اطلاعاتی اور میڈیا وار کے میدان میں بھی مؤثر حکمتِ عملی اختیار کی، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر اس کا مؤقف زیادہ واضح انداز میں سامنے آیا۔
دوسری جانب پاکستان کے اندر سیاسی اور عوامی سطح پر بھی اس آپریشن کو بھرپور حمایت حاصل رہی۔ مختلف سیاسی جماعتوں، مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کی جانب سے قومی سلامتی کے معاملے پر اتحاد اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر بھی افواجِ پاکستان کے حق میں مہمات چلائی گئیں، جبکہ نوجوانوں نے قومی جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوج کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق “آپریشن بنیان المرصوص” صرف ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک جامع قومی حکمتِ عملی کا حصہ تھا، جس میں دفاع، سفارت کاری، اطلاعاتی نظام اور عوامی حمایت کو یکجا کیا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں جنوبی ایشیا کی صورتحال کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں ایٹمی طاقتیں کشیدگی کم کرنے کے لیے کس حد تک سیاسی اور سفارتی راستہ اختیار کرتی ہیں۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ حالیہ صورتحال نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر سمیت بنیادی تنازعات کا حل ناگزیر ہے۔ جب تک خطے کے اہم مسائل مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل نہیں ہوتے، کشیدگی کے امکانات برقرار رہیں گے۔
آپریشن بنیان المرصوص نے پاکستان کو نہ صرف دفاعی میدان میں ایک مضبوط ریاست کے طور پر پیش کیا بلکہ سفارتی سطح پر بھی یہ پیغام دیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں کے نوجوانوں اور مشران نے بھی بھارت کے خلاف پاکستان کی افواج کی اس کامیابی کو سراہا ہے اور پاکستان کی جانب سے جنگی اور سفارتی محاذ پر اسے بھارت کی شکست قرار دیا ہے۔