خیبر (کیو این این ورلڈ / نورحلیم آفریدی) قبائل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی صدر اوردین محسود نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے قبائلی صحافیوں اور پریس کلبوں کے لیے اعلان شدہ گرانٹ فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے ایک اخباری بیان میں اوردین محسود نے قبائلی علاقوں میں صحافیوں کو درپیش مشکلات اور خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی صحافی گزشتہ دو دہائیوں سے انتہائی نامساعد اور خطرناک حالات میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور علاقے کے حالات و واقعات کو اعلیٰ حکام اور متعلقہ ایوانوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں رپورٹنگ کے دوران متعدد صحافی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جس سے اس شعبے سے وابستہ افراد کو درپیش خطرات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول، قبائلی صحافی محدود وسائل اور نامساعد حالات کے باوجود اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
اوردین محسود نے کہا کہ موجودہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا تعلق بھی قبائلی علاقے سے ہے، اس لیے وہ قبائلی صحافیوں کو درپیش مسائل اور خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جانب سے صحافیوں کے لیے شہداء پیکج اور پریس کلبوں کے لیے گرانٹ کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم قبائلی صحافیوں کے لیے اعلان کردہ گرانٹ تاحال جاری نہیں کی گئی۔
مرکزی صدر قبائل یونین آف جرنلسٹس نے صوبائی حکومت کے رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی صحافی انتہائی مشکل حالات میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، مگر ان کے مسائل کے حل اور اعلان کردہ سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ قبائلی صحافیوں کے مسائل کا فوری نوٹس لیں اور ان کے لیے اعلان شدہ و زیر التوا گرانٹ جاری کرکے دیرینہ مطالبہ پورا کریں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی صحافیوں کو درپیش مشکلات کے پیش نظر حکومت کو ان کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔