ہم اور سسٹین ایبلٹی
تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
دنیا کی تاریخ میں شاید پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ انسان اپنی ترقی پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ اس ترقی کے نتائج سے خوفزدہ بھی ہے۔ ایک طرف فلک بوس عمارتیں، جدید صنعتیں، مصنوعی ذہانت اور تیز رفتار ترقی کا سفر جاری ہے، تو دوسری طرف درخت کم ہو رہے ہیں، دریا سکڑ رہے ہیں، زیرِ زمین پانی نیچے جا رہا ہے، موسم بے ترتیب ہو چکے ہیں اور بارشیں رحمت کے بجائے بعض اوقات زحمت کا روپ دھار لیتی ہیں۔ یہی وہ پس منظر ہے جس نے دنیا کو ایک نئے تصور کی طرف متوجہ کیا ہے، جسے "سسٹین ایبلٹی” یا "پائیداری” کہا جاتا ہے۔
سسٹین ایبلٹی دراصل ایک سوچ، ایک ذمہ داری اور ایک طرزِ زندگی کا نام ہے۔ اس کا مطلب صرف ماحول کو صاف رکھنا نہیں بلکہ قدرتی وسائل کو اس انداز سے استعمال کرنا ہے کہ ہماری ضروریات بھی پوری ہوں اور آنے والی نسلوں کے حقوق بھی محفوظ رہیں۔ افسوس کہ ہم نے ترقی کو صرف سڑکوں، عمارتوں اور کارخانوں تک محدود کر دیا، جبکہ حقیقی ترقی وہ ہے جس میں انسان اور قدرت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ رہیں۔
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات برداشت کر رہے ہیں، حالانکہ عالمی آلودگی میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ کبھی شدید گرمی، کبھی بے وقت بارشیں، کبھی خشک سالی اور کبھی تباہ کن سیلاب ہماری معیشت، زراعت اور روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ یہ حالات ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہم نے قدرت کے ساتھ انصاف کیا ہے؟
حالیہ مون سون بارشوں نے ایک بار پھر ہماری تیاریوں کا امتحان لیا۔ چند گھنٹوں کی بارش نے کئی شہروں کو پانی میں ڈبو دیا، سڑکیں تالاب بن گئیں، نکاسیٔ آب کے نظام کی کمزوریاں کھل کر سامنے آ گئیں اور شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا بارش قصوروار ہے؟ ہرگز نہیں۔ بارش تو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، مگر ناقص منصوبہ بندی، بے ہنگم تعمیرات اور قدرتی آبی گزرگاہوں پر قبضے اس رحمت کو زحمت میں بدل دیتے ہیں۔
اگر ہم سسٹین ایبلٹی کے اصول اپنالیں تو بارش کا یہی پانی ہماری سب سے بڑی طاقت بن سکتا ہے۔ بارش کے پانی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے، زیرِ زمین پانی کو دوبارہ بھرنے کے لیے ری چارج ویل بنائے جا سکتے ہیں، شہروں میں ایسے فرش اور کھلے مقامات بنائے جا سکتے ہیں جہاں پانی آسانی سے زمین میں جذب ہو، اور نکاسیٔ آب کا ایسا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو ہر بارش کے بعد شہریوں کو پریشانی سے بچائے۔
دیہی پاکستان میں سسٹین ایبلٹی کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ کسان پانی کی کمی، زمین کی زرخیزی میں کمی اور موسمی بے یقینی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ اگر ہم بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، جدید آبپاشی کے نظام، شجرکاری اور پانی کے دانشمندانہ استعمال کو فروغ دیں تو زرعی شعبہ نہ صرف مضبوط ہوگا بلکہ غذائی تحفظ بھی بہتر ہوگا۔ پانی کا ہر قطرہ مستقبل کی معیشت کی بنیاد بن سکتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم روزانہ سینکڑوں لیٹر پانی ضائع کرتے ہیں، بجلی کا غیر ضروری استعمال کرتے ہیں، پلاسٹک کا بے دریغ استعمال جاری رکھتے ہیں اور درخت کاٹنے کو ترقی سمجھتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ قدرت کبھی بھی انسان کی بے احتیاطی کو ہمیشہ برداشت نہیں کرتی۔ آج اگر ہم ماحول کا خیال نہیں رکھیں گے تو کل ماحول ہماری زندگیوں کو مشکل بنا دے گا۔
اسلام نے بھی ہمیں پائیدار زندگی کا درس دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں اسراف سے روکا گیا ہے اور رسول اکرم ﷺ نے پانی کے استعمال میں بھی اعتدال کی تعلیم دی، خواہ پانی بہتے دریا سے ہی کیوں نہ لیا جا رہا ہو۔ یہ تعلیمات آج کے جدید تصورِ سسٹین ایبلٹی سے مکمل ہم آہنگ ہیں اور ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ ماحول کی حفاظت دراصل ایک اخلاقی اور دینی ذمہ داری بھی ہے۔
میڈیا، تعلیمی ادارے، صنعتیں، مقامی حکومتیں اور ہر شہری اس تبدیلی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر ہر شخص سال میں ایک درخت لگائے، بارش کے پانی کو محفوظ کرے، بجلی اور پانی کی بچت کرے، کوڑا مناسب جگہ پر پھینکے اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنائے تو یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات ایک بڑے قومی انقلاب کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ سسٹین ایبلٹی صرف ماحولیات کا موضوع نہیں بلکہ قومی سلامتی، معیشت، زراعت، صحت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ جو قومیں آج قدرتی وسائل کی حفاظت کر رہی ہیں، وہی کل ترقی یافتہ اور خوشحال ہوں گی۔ جو قومیں قدرت کو نظر انداز کریں گی، انہیں بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بحرانوں کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ترقی کی دوڑ میں قدرت کو اپنا ساتھی بنائیں، اس کا مخالف نہیں۔ بارش کو نعمت سمجھ کر محفوظ کریں، درختوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، پانی کے ہر قطرے کی قدر کریں اور اپنے شہروں و دیہات کو پائیدار ترقی کی مثال بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط، سرسبز، خوشحال اور محفوظ پاکستان کی طرف جاتا ہے۔
آئیے! آج یہ عہد کریں کہ ہم صرف اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بھی جئیں گے، کیونکہ سسٹین ایبلٹی صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ ہماری بقا، ہماری ذمہ داری اور ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
