امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے ایران کے خام تیل سے لدے 5 بحری جہازوں کو تباہ کردیا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران نے امریکی کارروائی کے جواب میں اردن میں امریکی فوجی اہداف کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تازہ حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور بڑے فوجی تصادم کا خطرہ شدت اختیار کرگیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایرانی آئل ٹینکرز کے خلاف کارروائی پاسداران انقلاب کی جانب سے دو روز کے دوران ایک امریکی جنگی بحری جہاز کو دو مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کے بعد کی گئی۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی بحری جہاز نے ایرانی میزائل حملوں کی کوششوں کو کامیابی سے ناکام بنایا اور ان واقعات میں کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔
امریکی فوج کے مطابق ایرانی آئل ٹینکرز کے خلاف کارروائی امریکی بحری جہازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کا جواب تھی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے امریکی جنگی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو اسے اپنے آئل ٹینکرز سے محروم ہونا پڑے گا۔
امریکی دعوے کے بعد ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فورسز نے اردن میں موجود امریکی اہداف کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے امریکی آئل ٹینکرز کے خلاف کارروائی کے جواب میں اردن کے علاقے الازرق میں واقع امریکی فوجی اڈے کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔
روسی میڈیا نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی میزائلوں سے امریکی بحریہ کے 2 ڈسٹرائرز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ اردن میں امریکی ایف 35 اور ایف 15 جنگی طیاروں کے ہینگرز بھی حملوں کی زد میں آئے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی کارروائی کے جواب میں دشمن کو غیر معمولی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق جوابی حملوں میں متعدد میزائل استعمال کیے گئے، جبکہ اردن میں موجود امریکی دفاعی نظام بھی ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے فعال ہوگیا۔
دوسری جانب اردنی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے مجموعی طور پر 20 میزائل داغے گئے، جن میں سے 18 کو راستے میں ہی روک لیا گیا، جبکہ 2 میزائل آبادی سے باہر جا کر گرے۔ اردنی حکام کی جانب سے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کے حوالے سے مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اردن میں موجود امریکی ایئربیس پر مبینہ ایرانی میزائل حملے کے حوالے سے فوری طور پر تفصیلی بیان جاری نہیں کیا، جس کے باعث ایرانی دعووں کے بعض پہلوؤں کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے۔
ادھر ایرانی بحریہ نے کویت اور بحرین کی بندرگاہوں پر موجود آئل ٹینکرز کے عملے کو بھی خبردار کیا ہے کہ جہاں امریکی اہلکار موجود ہیں، وہاں سے عملہ انخلا کرلے۔ اس تازہ انتباہ کو خطے میں امریکی مفادات اور بحری تنصیبات کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔
امریکا کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکرز کے خلاف کارروائی اور اس کے بعد ایران کی جانب سے امریکی فوجی اہداف پر میزائل حملوں کے دعووں نے خطے کی پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید سنگین کردیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بڑھنے کی صورت میں خلیج، مشرق وسطیٰ کے سمندری راستوں اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے لیے خطرات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے، جبکہ کسی بڑے تصادم کی صورت میں اس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈی اور تیل کی ترسیل پر بھی پڑ سکتے ہیں۔