تاریخ کے سینے پر ثبت ہونے والے نام محض نام نہیں ہوتے

بابائے جرگہ حافظ حشمت خان
تحریر: منور شاہ منور
تاریخ کے سینے پر ثبت ہونے والے نام محض نام نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے عہد کی پہچان، اپنی قوم کی شناخت اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن استعارہ بن جاتے ہیں۔ وقت کی بے رحم گردش بہت کچھ مٹا دیتی ہے، تخت الٹ دیتی ہے، تاج چھین لیتی ہے اور عہدے ختم کر دیتی ہے، مگر کردار کی خوشبو، خدمت کی مہک اور انسانیت کے لیے جلائے گئے چراغ دیر تک اپنی روشنی بانٹتے رہتے ہیں۔

دنیا میں ہزاروں لوگ آتے ہیں، زندگی گزارتے ہیں اور رخصت ہو جاتے ہیں، مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی زندگی صرف اُن کی اپنی زندگی نہیں رہتی بلکہ وہ دوسروں کے دکھوں کا مداوا، بچھڑوں کے درمیان رابطہ، ناراض دلوں کے لیے مرہم اور معاشرے کے لیے امید کی کرن بن جاتے ہیں۔ سرزمینِ داودزئی کے افق پر ایسا ہی ایک روشن نام حافظ حشمت خان کا ہے۔

وہ شخصیت جس کے ساتھ محض سیاست نہیں بلکہ جرگہ، صلح، مصالحت، خدمت، معاملہ فہمی، دوراندیشی اور انسان دوستی کی ایک پوری داستان وابستہ ہے۔ لوگ انہیں صرف حافظ حشمت خان نہیں کہتے بلکہ محبت، اعتماد اور احترام سے ’’بابائے جرگہ‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ خطاب کسی سرکاری حکم نامے، سیاسی قرارداد یا رسمی اعلان کا عطیہ نہیں بلکہ لوگوں کے دلوں سے نکلنے والا وہ اعزاز ہے جو خدمت کی طویل مسافت طے کرنے کے بعد کسی انسان کے حصے میں آتا ہے۔

ہر بڑی داستان کسی عظیم الشان محل کے دروازے سے شروع نہیں ہوتی۔ بعض اوقات تاریخ کے روشن کردار اُن مٹی کے گھروں میں جنم لیتے ہیں جہاں دیواریں سادہ مگر تربیت کی بنیادیں مضبوط، وسائل محدود مگر حوصلے بلند اور زندگی مشکل مگر دل وسیع ہوتے ہیں۔ حافظ حشمت خان بھی علاقۂ داودزئی کے ایک نسبتاً پسماندہ گاؤں میں ایک زمیندار گھرانے کے آنگن میں پروان چڑھے۔ یہی وہ مٹی تھی جس نے اُن کے قدموں کو مضبوطی دی اور یہی وہ ماحول تھا جہاں انہوں نے لوگوں کے دکھ دیکھے، خاندانوں کے مسائل محسوس کیے، حجرے کی نشستوں میں بزرگوں کی گفتگو سنی اور جرگے کی اس روایت کو قریب سے جانا جو پشتون معاشرے کی اجتماعی زندگی کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔

وقت گزرتا گیا۔ بچپن جوانی میں بدلا، جوانی تجربے میں ڈھلی اور تجربہ بصیرت میں تبدیل ہوا۔ زندگی کے نشیب و فراز نے ایک ایسی سوچ کو جنم دیا جو رفتہ رفتہ اُن کے مقصدِ حیات کا حصہ بنتی گئی: اگر دو انسان ناراض ہیں تو انہیں قریب لایا جائے، اگر دو بھائی بچھڑ گئے ہیں تو انہیں ملایا جائے، اگر دو خاندان دشمنی کی آگ میں جل رہے ہیں تو اس آگ کو بجھایا جائے اور اگر کسی دل میں نفرت کا کانٹا ہے تو اسے محبت کے ہاتھ سے نکالنے کی کوشش کی جائے۔ یہی سوچ آگے چل کر اُن کی پہچان بن گئی۔

جرگہ صرف چند افراد کے ایک جگہ بیٹھنے کا نام نہیں بلکہ صدیوں کی اجتماعی دانش کا وہ آئینہ ہے جس میں ایک معاشرہ اپنے اختلافات کا چہرہ دیکھتا اور اُن کے حل کا راستہ تلاش کرتا ہے۔ اصل امتحان اُس وقت ہوتا ہے جب دو طرف غصے میں ہوں، دل زخمی ہوں، لہجے تلخ ہوں اور ماضی کی تلخیاں حال کے دروازے پر پہرہ دے رہی ہوں۔ ایسے موقع پر جرگہ دار کو صرف زبان نہیں، ضمیر بھی استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اسے صرف بات نہیں سننی پڑتی بلکہ خاموشی کو بھی سمجھنا پڑتا ہے، صرف الفاظ نہیں بلکہ چہروں پر لکھی ہوئی داستانیں بھی پڑھنی پڑتی ہیں۔

جرگہ دار کو معلوم ہونا چاہیے کہ کس مقام پر سختی معاملہ بگاڑ دے گی، کہاں نرمی دل جیت لے گی، کہاں خاموشی حکمت ہوگی اور کہاں ایک درست جملہ برسوں کی دشمنی ختم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ حافظ حشمت خان نے اسی دشوار گزار راستے پر قدم رکھا۔ انہوں نے جرگے کو محض فیصلے کا وسیلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے دلوں کی مرمت اور رشتوں کی بحالی کا ذریعہ بنایا۔

اُن کے نزدیک راضی نامہ صرف کاغذ پر لکھی ہوئی چند سطروں کا نام نہیں بلکہ وہ لمحہ ہے جب دو ناراض آنکھوں میں آنسو آتے ہیں، دو ہاتھ آگے بڑھتے ہیں اور برسوں کی دشمنی معافی کے ایک جملے کے ساتھ دفن ہو جاتی ہے۔ حافظ حشمت خان کی زندگی کا سب سے روشن پہلو اُن کی صلح و مصالحت کی بے شمار کاوشیں ہیں جن کے نتیجے میں خاندانوں اور افراد کے درمیان اختلافات ختم ہوئے اور بکھرتے ہوئے رشتوں کو دوبارہ زندگی ملی۔

الحمدللہ، فی سبیل اللہ ہزاروں راضی نامے اُن کی ان کوششوں کی نمایاں مثال ہیں۔ انسان دنیا میں بہت کچھ جمع کرتا ہے۔ کوئی دولت، کوئی جائیداد، کوئی شہرت، کوئی عہدے اور کوئی اقتدار، مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو زندگی بھر دعائیں جمع کرتے ہیں۔ برسوں سے ایک دوسرے کے دروازے بند رکھنے والے خاندان جب ایک مجلس میں بیٹھتے ہیں، تلخیاں سامنے آتی ہیں، آنکھیں نم ہوتی ہیں اور آخرکار دل نرم پڑ جاتے ہیں تو صلح کا ایک لمحہ کئی زندگیوں کا رخ بدل دیتا ہے۔

کبھی دو بھائی معمولی اختلاف کی وجہ سے ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ فاصلے اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ دونوں ایک دوسرے کی آواز سننے سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک جرگہ ہوتا ہے، بات ہوتی ہے، دلوں کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے اور ایک آواز بلند ہوتی ہے: ’’بس! آج سے سب ختم، ہم پھر بھائی ہیں۔‘‘ یہ چند الفاظ بظاہر معمولی ہوتے ہیں مگر کبھی کبھی یہی الفاظ دو خاندانوں کی تاریخ بدل دیتے ہیں۔

حافظ حشمت خان کے نزدیک فتح کا مفہوم بھی منفرد ہے۔ فتح صرف دشمن کو شکست دینے، اقتدار حاصل کرنے یا میدان اپنے نام کرنے کا نام نہیں۔ اصل فتح یہ ہے کہ دشمن دوست بن جائے، ناراض بھائی ایک دوسرے کے گلے لگ جائیں، نفرت کی جگہ محبت لے لے اور انتقام کی جگہ معافی جنم لے۔ فتح یہ ہے کہ برسوں کا فاصلہ ایک ملاقات میں سمٹ جائے، ایک ماں کے چہرے پر سکون لوٹ آئے اور کسی خاندان کی دہلیز سے خوف کا سایہ اٹھ جائے۔

یہی سوچ حافظ حشمت خان کو محض ایک سیاسی شخصیت سے بلند کرکے ایک سماجی مصلح اور صلح کار کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔ حافظ حشمت خان نے سیاست کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ سابق صوبائی وزیرِ عشر و زکوٰۃ کی حیثیت سے عوامی ذمہ داریاں ادا کیں اور جماعتِ اسلامی پاکستان کے پلیٹ فارم سے سیاسی و سماجی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کیا، مگر کسی شخصیت کا اصل قد صرف اُس کے منصب سے نہیں ناپا جا سکتا۔

منصب ختم ہو جاتے ہیں، اقتدار آتا ہے اور چلا جاتا ہے، عہدے بدلتے رہتے ہیں اور سیاسی موسم تبدیل ہوتے رہتے ہیں، مگر کردار باقی رہتا ہے۔ جس انسان نے کسی کے دکھ میں اُس کا ہاتھ تھاما ہو، کسی خاندان میں صلح کرائی ہو اور کسی ناراض بھائی کو بھائی سے ملایا ہو، اُس کی یاد لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتی ہے۔

حافظ حشمت خان کی شخصیت کا یہی پہلو انہیں ممتاز کرتا ہے۔ جہاں کسی کو تقریر نہیں بلکہ تسلی چاہیے تھی، وہاں وہ موجود تھے۔ جہاں کسی کو سیاسی نعرہ نہیں بلکہ صلح کی کوشش درکار تھی، وہاں انہوں نے اپنا کردار ادا کیا۔ جہاں دو فریق ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار نہیں تھے، وہاں بات چیت اور مصالحت کا راستہ تلاش کیا گیا، کیونکہ بعض راستے سڑکوں سے نہیں بلکہ دلوں سے نکلتے ہیں۔

داودزئی محض نقشے پر کھینچی ہوئی ایک لکیر نہیں بلکہ ایک تہذیب، تاریخ اور روایت کا نام ہے۔ یہ مٹی، حجرے، بزرگوں کی دانش، نوجوانوں کے خواب، کھیتوں کی خوشبو اور رشتوں کی گرمی سے جڑی ہوئی سرزمین ہے۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں غم میں شانہ بشانہ کھڑے ہونے اور خوشی میں ایک دوسرے کے گھر پہنچنے کی روایت موجود رہی ہے۔

جب کسی ایسی سرزمین سے کوئی شخص اپنے کردار سے پورے علاقے کا نام روشن کرتا ہے تو وہ صرف اپنے خاندان کا نہیں رہتا بلکہ پورے علاقے کی پہچان بن جاتا ہے۔ حافظ حشمت خان بھی داودزئی کے ایسے ہی سپوت ہیں۔ وہ ایک خاندان کا فخر ضرور ہیں، مگر اُن کی خدمات کی وسعت انہیں خاندان کی حدود سے نکال کر پورے علاقے کا اثاثہ بنا دیتی ہے۔

نفرت کا بیج بونا آسان ہے۔ ایک جملہ، ایک افواہ، ایک غلط فہمی یا ایک اشتعال انگیز لفظ بھی بعض اوقات برسوں کے تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے، مگر محبت کا درخت اُگانے کے لیے صبر، برداشت، اخلاص، حوصلہ اور انسان کے دل میں انسان کے لیے درد درکار ہوتا ہے۔

حافظ حشمت خان نے اپنی زندگی میں مصالحت اور امن کے اسی چراغ کو روشن رکھنے کی کوشش کی۔ اگر کسی خاندان کے درمیان نفرت کی رات طویل تھی تو صلح کی کوشش روشنی بنی، اگر کسی رشتے پر غلط فہمی کی دھند چھائی تھی تو گفتگو کے ذریعے اسے دور کرنے کی کوشش کی گئی اور اگر کسی دل میں انتقام کی آگ تھی تو حکمت اور معاملہ فہمی سے اسے ٹھنڈا کرنے کا راستہ تلاش کیا گیا۔

پشتون معاشرے میں حجرہ صرف اینٹوں، مٹی اور لکڑی سے بنی ہوئی جگہ کا نام نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کا ایک اہم مرکز ہے۔ یہاں بزرگوں کی دانش سے سیکھا جاتا ہے، مسافروں کو پناہ ملتی ہے، غم بانٹے جاتے ہیں، خوشیاں تقسیم ہوتی ہیں اور کئی مرتبہ دشمنیوں کے خاتمے کی راہیں بھی یہی سے نکلتی ہیں۔

حافظ حشمت خان نے اس روایت کو محض ماضی کی یاد نہیں بننے دیا بلکہ اسے معاشرتی اصلاح اور مصالحت کے ایک مؤثر وسیلے کے طور پر زندہ رکھنے کی کوشش کی۔ اُن کے نزدیک جرگے کی عظمت تب ہے جب وہاں طاقت کی آواز سے زیادہ حق کی آواز بلند ہو، امیر اور غریب کے لیے انصاف کا معیار ایک ہو، کمزور بھی اپنی بات کہہ سکے اور عزتِ نفس مجروح کیے بغیر صلح کا راستہ نکالا جائے۔

کچھ لوگ کتابیں پڑھتے ہیں، کچھ تاریخ پڑھتے ہیں اور کچھ لوگ انسان پڑھتے ہیں۔ جرگہ داری دراصل انسان کو سمجھنے کا فن ہے۔ چہرے کی ایک شکن، آواز کا اتار چڑھاؤ، خاموشی کا ایک لمحہ اور آنکھوں میں تیرتا ہوا آنسو اپنے اندر ایک داستان رکھتے ہیں۔

ایک شخص غصے میں چیخ رہا ہو تو ضروری نہیں کہ وہ صرف غصے میں ہو، ممکن ہے اُس کے پیچھے برسوں کا دکھ چھپا ہو۔ کوئی شخص ضد پر قائم ہو تو ممکن ہے اُس ضد کے پیچھے عزتِ نفس کا خوف ہو۔ کوئی خاندان صلح سے انکار کرے تو شاید اُسے ایسا راستہ درکار ہو جس میں اُس کی عزت بھی محفوظ رہے اور تنازع بھی ختم ہو جائے۔ یہی باریکیاں جرگہ دار کو سمجھنی پڑتی ہیں اور یہی وہ میدان ہے جہاں تجربہ، بصیرت اور معاملہ فہمی اپنا اصل امتحان دیتی ہے۔

کچھ خدمتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا صلہ تالیاں، اخبارات کی سرخیاں یا بڑے بڑے اعزاز نہیں ہوتے بلکہ صرف ایک شخص کے لبوں سے نکلنے والی دعا ہوتی ہے: ’’اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔‘‘ بعض اوقات یہ مختصر جملہ دنیا کے تمام اعزازات سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔

جو شخص کسی کے گھر میں صلح کرائے، کسی ناراض دل کو سکون دے اور کسی خاندان کو مزید ٹوٹنے سے بچائے، اُس کی خدمت کا حقیقی اجر وہی رب جانتا ہے جس کے لیے نیت کی جاتی ہے۔ حافظ حشمت خان کی جرگہ داری کا یہی پہلو اُن کی شخصیت کو مزید باوقار بناتا ہے کہ اُن کے لیے خدمت محض ایک سماجی سرگرمی نہیں بلکہ رضائے الٰہی کے حصول کی ایک راہ بھی ہے۔

آج کا زمانہ تیز رفتار ہے۔ الفاظ پہلے سے زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں اور غلط فہمیاں بھی پہلے سے زیادہ تیزی سے جنم لیتی ہیں۔ ایک معمولی اختلاف کبھی دشمنی بن جاتا ہے، ایک تلخی رشتہ توڑ دیتی ہے اور ایک لمحے کا غصہ برسوں کی محبت کو نقصان پہنچا دیتا ہے۔ ایسے دور میں حافظ حشمت خان جیسے کردار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ طاقت دوسروں کو دبانے کا نام نہیں بلکہ اپنے غصے کو قابو کرنے کا نام ہے۔

بہادری دوسروں کو شکست دینے میں نہیں بلکہ اپنے نفس پر قابو پانے میں ہے۔ عزت دوسروں سے عزت چھیننے میں نہیں بلکہ دوسروں کی عزت کرنے میں ہے اور اصل کامیابی مخالف کو ختم کرنا نہیں بلکہ اختلاف کو ختم کرنا ہے۔

یہی پیغام نئی نسل تک پہنچنا چاہیے، کیونکہ معاشرے صرف طاقت سے محفوظ نہیں ہوتے بلکہ اعتماد سے مضبوط بنتے ہیں۔ رشتے زور سے نہیں بلکہ محبت سے قائم رہتے ہیں اور قومیں صرف سڑکوں اور عمارتوں سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ اُس وقت حقیقی ترقی کرتی ہیں جب اُن کے دلوں میں برداشت، رواداری، انصاف اور بھائی چارہ زندہ ہو۔

حافظ حشمت خان اب صرف ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی روایت کی علامت ہیں جو رشتوں کو جوڑنے، اختلافات کو کم کرنے اور انسانیت کو مقدم رکھنے کا درس دیتی ہے۔ رشتہ توڑنا آسان ہے مگر اسے بچانا کمال ہے۔ دشمنی کرنا آسان ہے مگر معاف کرنا بڑا ظرف ہے۔ فاصلے پیدا کرنا آسان ہے مگر ان کے درمیان پل تعمیر کرنا اصل خدمت ہے۔

سرزمینِ داودزئی نے بہت سے چہرے دیکھے ہیں اور بہت سے نام پیدا کیے ہیں، مگر کچھ شخصیات اپنے کردار اور خدمت کی وجہ سے نمایاں ہو جاتی ہیں۔ بابائے جرگہ حافظ حشمت خان بھی ایک ایسا نام ہیں جس کے ساتھ ایک عہدے سے زیادہ کردار، سیاست سے زیادہ خدمت اور شخصیت سے بڑھ کر امن و مصالحت کی فکر وابستہ ہے۔

انہوں نے اگر کوئی جنگ جیتی ہے تو وہ نفرت کے خلاف کوشش کی جنگ ہے اور اگر کوئی خزانہ جمع کیا ہے تو وہ اُن لوگوں کی دعائیں ہیں جن کے درمیان صلح کی کوئی نہ کوئی کڑی اُن کی کوششوں سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی اُن کی اصل دولت، پہچان اور اعزاز ہے۔

داودزئی کی مٹی کو ایسے سپوتوں پر ناز ہونا چاہیے جو اپنی ذات سے بلند ہو کر معاشرے کے لیے جیتے ہیں، جن کے ہاتھ میں نفرت کا پتھر نہیں بلکہ امن کی کوشش ہو، جن کی زبان پر اشتعال نہیں بلکہ مصالحت کے الفاظ ہوں اور جن کے دل میں انتقام نہیں بلکہ انسانیت کا درد ہو۔

حافظ حشمت خان اسی خدمت، اسی روایت اور اسی فکر کا نام ہیں۔ داودزئی اُن پر نازاں ہے اور ان کی شخصیت خدمت، صلح اور انسان دوستی کی اُن روایات کی یاد دلاتی ہے جن کی آج کے معاشرے کو پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اُنہیں جو بصیرت، معاملہ فہمی، اخلاص، جرگہ نشینی اور خدمتِ خلق کا جذبہ عطا فرمایا ہے، اس میں مزید برکت عطا فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے