سیلابی کٹاؤ نے جکھڑ امام شاہ میں تباہی مچا دی، متاثرین نقل مکانی پر مجبور

ڈیرہ غازی خان (کیو این این ورلڈ) تحصیل کوٹ چھٹہ کے علاقے جکھڑ امام شاہ میں دریائے سندھ کے کٹاؤ اور سیلابی صورتحال نے تباہی مچا دی ہے، جہاں متعدد بستیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں جبکہ کئی مکانات تیز بہتے پانی اور کٹاؤ کی نذر ہو کر صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں کے مکین اپنے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں بستی لسکانی، بستی دودا، بستی ملکانی، بستی قلندر اور بستی ہشمیرہ سمیت متعدد بستیاں دریائے سندھ کے مسلسل کٹاؤ کی زد میں ہیں۔ مقامی آبادی کے مطابق دریا کا کٹاؤ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جس کے باعث مزید بستیاں اور مکانات خطرے سے دوچار ہیں۔

سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ علاقے میں راشن کی قلت کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ مویشیوں کے لیے چارے اور خوراک کی کمی بھی سنگین مسئلہ بن سکتی ہے۔ متعدد متاثرہ بستیوں میں بچے، خواتین اور بزرگ امداد کے منتظر ہیں اور فوری حکومتی مدد کے منتظر ہیں۔

متاثرین کے مطابق بعض افراد اپنے متاثرہ مکانات اور سامان کو بچانے کی کوشش میں تیز بہتے پانی کے قریب اپنی مدد آپ کے تحت موجود ہیں اور جانوں کو خطرے میں ڈال کر دن رات گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی خاندان کھانے پینے اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

سیلاب متاثرین نور محمد، حاجی بشیر، ظہور خان، خان محمد، عبداللہ، عنایت اللہ اور دیگر نے بتایا کہ اے سی کوٹ چھٹہ کے دورۂ علاقے کے دوران انہوں نے دریائے سندھ کے کٹاؤ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات اور جکھڑ امام شاہ کو مستقبل میں سیلاب سے محفوظ بنانے کے لیے ایک بڑا سپر بند تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

متاثرین کا دعویٰ ہے کہ ان کے مطالبے کے جواب میں مبینہ طور پر متعلقہ افسر کی جانب سے کہا گیا کہ "ہم آپ کو سپر بند کی بجائے امریکہ کے ویزے جاری کر دیتے ہیں”۔ متاثرین نے اس مبینہ بیان کو انتہائی غیر سنجیدہ اور اپنی مشکلات کا مذاق قرار دیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات اور باقاعدہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے متعلقہ انتظامیہ کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔

متاثرین سیلاب نے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، چیف سیکرٹری پنجاب زاہد زمان اختر، سیکرٹری محکمہ انہار پنجاب، ڈی جی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، وفاقی وزیر و رکن قومی اسمبلی اویس لغاری، رکن صوبائی اسمبلی علی یوسف لغاری، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان سمیت دیگر متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جکھڑ امام شاہ کے سیلاب زدہ علاقوں میں فوری طور پر راشن، صاف پینے کے پانی اور مویشیوں کے لیے خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ متاثرین نے مزید مطالبہ کیا کہ سیلاب سے مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہونے والے گھروں کی بحالی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے نئے پختہ مکانات کی تعمیر کے لیے حکومت فلاحی تنظیموں کے تعاون سے خصوصی اقدامات کرے۔

متاثرین نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ دریائے سندھ کے مسلسل کٹاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور مستقل بنیادوں پر حفاظتی بند سمیت دیگر ضروری منصوبے شروع کیے جائیں تاکہ جکھڑ امام شاہ اور گردونواح کی بستیاں مستقبل میں مزید تباہی سے محفوظ رہ سکیں اور قیمتی انسانی جانوں اور املاک کے نقصان کو روکا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے