خیبر (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار نورحلیم آفریدی) وادیٔ تیراہ سے آنے والے دریا نے قوم سپاہ کے مختلف علاقوں کے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ سپین درند، ترخو کاس، درے وانڈی، کوٹکی، عبدالخیل، علی مت خیل، لنڈی خیل، بغداد خیل اور سندانہ کے علاقوں میں گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے رابطہ پل نہ ہونے کے باعث مقامی آبادی کو روزمرہ سفر اور ضروری امور کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق دریا پر گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے مناسب رابطہ پل نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو آمدورفت میں شدید دشواری پیش آتی ہے، جس سے روزمرہ زندگی، سفر اور دیگر ضروری معاملات متاثر ہو رہے ہیں۔
مقامی عوام نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی اور ممبر صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کی روزمرہ ضروریات اور آمدورفت کے مسائل کے پیش نظر دریا پر فوری طور پر گاڑیوں کے لیے رابطہ پل تعمیر کیا جائے۔
علاقہ مکینوں نے کہا کہ مجوزہ رابطہ پل صرف قوم سپاہ کے لیے ہی نہیں بلکہ قوم کمرخیل اور قوم زخہ خیل کی بڑی آبادی کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ ان علاقوں کے ہزاروں افراد کی آمدورفت اور روزمرہ ضروریات کا انحصار بھی اسی راستے پر ہے۔
عوام نے مطالبہ کیا کہ علاقے کے دیرینہ مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرتے ہوئے رابطہ پل کی تعمیر کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ مقامی آبادی کو آمدورفت کی بہتر اور محفوظ سہولت میسر آ سکے۔