میشا شفیع کی اپیل پر 50 لاکھ ہرجانے کے معاملے میں سات روز میں جواب طلب

لاہور (کیو این این ورلڈ) لاہور ہائیکورٹ نے گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے ہتک عزت کیس میں ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر متفرق درخواست پر متعلقہ فریق سے سات روز میں جواب طلب کر لیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس احمد ندیم ارشد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔

میشا شفیع نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل میں مؤقف اختیار کیا کہ ماتحت عدالت نے مقدمے کے حقائق اور قانونی پہلوؤں کا درست انداز میں جائزہ نہیں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنسی ہراسانی کے الزامات کے معاملے کا میرٹ پر فیصلہ کیے بغیر ہتک عزت کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا۔

گلوکارہ نے عدالت کو بتایا کہ جنسی ہراسانی سے متعلق ان کا مقدمہ تاحال سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیرِ التوا ہے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ کسی الزام کا ثابت نہ ہونا، اسے خود بخود جھوٹا قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔

میشا شفیع نے لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی کہ ماتحت عدالت کی جانب سے 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم کالعدم قرار دیا جائے۔ درخواست گزار کے مطابق ہتک عزت کے مقدمے میں فیصلہ کرتے ہوئے بعض اہم قانونی اور حقائق پر مبنی نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔

عدالت اس سے قبل ہرجانے کی رقم کی ادائیگی سے متعلق ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو معطل کر چکی ہے، جبکہ تازہ سماعت کے دوران متفرق درخواست پر متعلقہ فریق سے سات روز میں جواب طلب کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے گلوکار علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کرنے کے معاملے میں میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ میشا شفیع نے ماتحت عدالت کے اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے