شور نظر آتا ہے مگر سرکاری اداروں کی ملی بھگت سے سب اچھے کی رپورٹ دی جاتی ہے

انڈسٹری میں شور ۔۔۔ خاموش قاتل ذمّہ دار کون ؟
تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
آج ہم بات کریں گے شور کے حوالہ سے اور سب سے بڑا مسئلہ انڈسٹری میں شور والی جگہ پر کام کرنے والے ورکروں کا ہے۔ سرکاری اداروں کی عدم دلچسپی اور کرپشن نے اس کو مزید خراب کر دیا ہے۔ لاکھوں ورکروں کو صحت کے بارے میں تحفظات ہیں، جس میں انڈسٹری مالکان کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں کے محافظ شامل ہیں، جن کی وجہ سے خدشات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ کرپشن ہے۔

دوسری جانب صنعتی ترقی کسی بھی ملک کی معاشی مضبوطی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ فیکٹریاں، ملیں، پاور پلانٹس، ٹیکسٹائل یونٹس، اسٹیل ملز، ڈائینگ اور فنشنگ پلانٹس، انجینئرنگ ورکشاپس اور دیگر صنعتی ادارے روزگار اور پیداوار میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن صنعتی ترقی کے ساتھ کچھ ایسے خطرات بھی پیدا ہوتے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتے اور انسان کو بتدریج اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ شور بھی انہی خاموش خطرات میں سے ایک ہے، جو کہ خاموش قاتل کا کام سر انجام دے رہا ہے۔

فیکٹری کے اندر مشینیں چل رہی ہوں، کمپریسرز گونج رہے ہوں، بوائلر، جنریٹر، موٹرز، پمپس، لومز یا دیگر بھاری مشینری مسلسل آواز پیدا کر رہی ہو تو اکثر کارکن اسے صنعتی ماحول کا معمول سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، جو کہ صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اصل مسئلہ یہی ہے۔ شور اگر مقررہ حد سے بڑھ جائے اور کارکن طویل عرصے تک اس کا سامنا کرتا رہے تو سماعت کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے، جو کہ ہماری انڈسٹری میں عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ وجہ کرپشن اور اداروں کا کمزور ہونا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق کام کی جگہ پر شور سے پیدا ہونے والی سماعت کی خرابی بڑی حد تک قابلِ پیشگیری ہے۔

شور آخر خطرناک کب بنتا ہے؟

شور کا خطرہ صرف اس بات سے طے نہیں ہوتا کہ آواز کتنی بلند ہے۔ اس کے ساتھ شور کی شدت، روزانہ نمائش کا دورانیہ اور بار بار ہونے والی Exposure بھی اہم ہیں۔ اس سلسلہ میں مختلف انسٹیٹیوٹ آف سیفٹی، صنعتی کارکنوں کے لیے 8 گھنٹے کے اوسط دورانئے میں 85 dBA کو Recommended Exposure Limit قرار دیتے ہیں۔ OSHA کے عمومی صنعتی معیار میں 8 گھنٹے کے لیے 90 dBA permissible exposure limit بیان کی گئی ہے، جبکہ 85 dBA یا اس سے زیادہ کے 8 گھنٹے کے Time-Weighted Average پر Hearing Conservation Program کی ضرورت آتی ہے۔

یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ Decibel ایک logarithmic پیمانہ ہے۔ یعنی چند decibels کا اضافہ معمولی نظر آنے کے باوجود شور کی شدت میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ اسی لیے صرف کان سے اندازہ لگانا کہ "شور زیادہ نہیں ہے” ایک غیر محفوظ طریقہ ہے؛ صنعتی شور کی باقاعدہ پیمائش ضروری ہے، جو کہ نہیں ہو رہی ہے۔ اس کی بھی بڑی وجہ سرکاری اداروں کی عدم دلچسپی اور کرپشن ہے۔

شور کا سب سے بڑا نقصان سماعت کو

شور سے ہونے والی بیماری کو Noise-Induced Hearing Loss (NIHL) کہا جاتا ہے۔ اس کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ اکثر اچانک سامنے نہیں آتی۔ کارکن کئی سال تک مشینوں کے شور میں کام کرتا رہتا ہے اور اسے محسوس بھی نہیں ہوتا کہ اس کی سماعت بتدریج کم ہو رہی ہے۔

ابتدائی مرحلے میں انسان کو ہلکی آوازیں سننے میں دشواری ہو سکتی ہے، پھر گفتگو سمجھنے میں مسئلہ پیدا ہوتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب اردگرد پہلے ہی شور موجود ہو۔ بعض افراد کے کانوں میں مسلسل یا وقفے وقفے سے گھنٹیاں بجنے، سیٹی یا بھنبھناہٹ جیسی کیفیت پیدا ہوتی ہے جسے Tinnitus کہا جاتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق بلند اور مسلسل شور اندرونی کان کے حساس خلیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور بار بار یا طویل Exposure کے نتیجے میں سماعت کا نقصان مستقل اور ناقابلِ واپسی ہو سکتا ہے، جو کہ مسلسل اضافے کے ساتھ محسوس کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی صنعتوں میں مسئلہ کتنا اہم ہے اس کا اندازہ لگانا بہت آسان ہے، مگر پرائیویٹ سطح پر اور سرکار کے پاس اس کا کوئی واضح ریکارڈ نہیں، تو پھر کنٹرول کیسا؟

پاکستان میں صنعتی شور کوئی فرضی مسئلہ نہیں، خاص طور پر ٹیکسٹائل، ویونگ، اسٹیل اور دیگر بھاری صنعتوں میں بلند شور کے ماحول کی نشاندہی مختلف مطالعات میں کی گئی ہے۔ ایک پاکستانی مطالعے میں کراچی کی ٹیکسٹائل ملوں میں شور کی سطح مختلف مقامات پر 85 سے 112 dB تک رپورٹ کی گئی تھی۔

اس صورتحال میں سوال صرف یہ نہیں کہ مشین کتنی آواز پیدا کرتی ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس مشین کے قریب کام کرنے والا کارکن روزانہ کتنے گھنٹے، کتنے دن اور کتنے سال اس شور کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کے بارے میں بھی سرکاری اداروں کے پاس کوئی اوریجنل مواد موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ Safety Department کے لیے Noise Survey محض کاغذی کارروائی نہیں بلکہ ایک بنیادی حفاظتی ضرورت ہے۔

صرف Ear Plug دینا کافی نہیں، جو کہ ہم زمینی حقائق کی بات کریں تو یہی کافی سمجھا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں صنعتی سیفٹی میں بعض اوقات یہ تصور پایا جاتا ہے کہ کارکن کو Ear Plug یا Ear Muff دے دیا گیا اور Noise Hazard ختم ہو گیا۔ حقیقت اس سے مختلف ہے۔

حفاظت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ پہلے خطرے کو Engineering Controls کے ذریعے کم کیا جائے۔ مثال کے طور پر مشین کی مناسب Maintenance، loose یا damaged components کی درستگی، vibration کم کرنا، noisy equipment کے گرد acoustic enclosure یا barrier لگانا، مشین اور کارکن کے درمیان فاصلہ بڑھانا اور جہاں ممکن ہو کم شور پیدا کرنے والی مشین یا طریقہ اختیار کرنا زیادہ مؤثر اقدامات ہیں۔

اس کے بعد Administrative Controls، Exposure Time کم کرنا، کارکنوں کی Rotation اور مناسب Work Planning مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

آخر میں Hearing Protection یعنی Ear Plug یا Ear Muff کو استعمال کیا جاتا ہے۔ OSHA بھی شور کے کنٹرول کے لیے engineering اور administrative اقدامات کو اہم قرار دیتا ہے، خصوصاً جب Exposure زیادہ ہو۔

کسی بھی انڈسٹری میں سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کو صرف حادثے کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے Preventive Safety پر توجہ دینی چاہیے۔

فیکٹری میں باقاعدگی سے Noise Survey ہونا چاہیے۔ Sound Level Meter یا مناسب Noise Dosimeter کے ذریعے مختلف departments اور کارکنوں کی Exposure معلوم کی جانی چاہیے۔ جہاں ضرورت ہو وہاں Noise Mapping کی جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کون سا علاقہ High Noise Area ہے۔

کارکنوں کو واضح طور پر بتایا جائے کہ کہاں Hearing Protection لازمی ہے۔ Warning Signs نمایاں جگہوں پر لگائے جائیں اور کارکنوں کو Ear Plug کے درست استعمال، صفائی اور تبدیلی کے بارے میں تربیت دی جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ کارکنوں کا Baseline اور Periodic Audiometry Test بھی اہم ہے تاکہ سماعت میں ہونے والی تبدیلی کو بروقت پکڑا جا سکے۔ WHO بھی Noise یا بعض کیمیکلز سے متاثر ہونے والے کارکنوں میں hearing assessment کو اہم سمجھتا ہے۔

شور صرف کانوں کا مسئلہ نہیں

شور کے اثرات کو صرف سماعت تک محدود سمجھنا بھی درست نہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ضرورت سے زیادہ شور نیند، ذہنی و نفسیاتی کیفیت، کارکردگی، ارتکاز اور دیگر صحت کے مسائل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

صنعت میں اس کا ایک اور خطرناک پہلو Communication Failure ہے۔ اگر کارکن مشین کے شور میں دوسرے کارکن یا Supervisor کی وارننگ نہ سن سکے تو ایک چھوٹا سا Communication Gap حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔

مثلاً اگر ایک کارکن کو پیچھے سے Forklift کے آنے کی آواز سنائی نہ دے، Emergency Alarm واضح طور پر سنائی نہ دے یا کسی مشین کی غیر معمولی آواز Maintenance Team تک نہ پہنچ سکے تو Noise ایک بالواسطہ Safety Hazard بھی بن جاتا ہے۔

ہمیں اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا

صنعت میں شور کو "فیکٹری میں تو شور ہوتا ہی ہے” کہہ کر نظر انداز کرنا ایک خطرناک رویہ ہے۔

ایک ذمہ دار صنعت وہ نہیں جو صرف پیداوار کا ہدف پورا کرے، بلکہ وہ صنعت ہے جو Production کے ساتھ Protection کو بھی یقینی بنائے۔

کارکن صرف مشین کا ایک حصہ نہیں بلکہ ایک انسان ہے۔ اس کی سماعت، صحت اور مستقبل بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنی فیکٹری کی پیداوار۔

ہمیں یہ سوچ بدلنی ہوگی کہ Ear Plug پہننا کمزوری یا تکلیف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ Hearing Protection استعمال کرنا ایک Professional Safety Practice ہے۔

سوچنے کی بات:

اگر ایک مشین روزانہ کروڑوں روپے کی پیداوار دے سکتی ہے تو کیا اس مشین کے شور سے متاثر ہونے والے کارکن کی سماعت کی حفاظت کے لیے چند ہزار روپے خرچ نہیں کیے جا سکتے؟ جی ہاں، یہ درست ہے۔

اگر ایک صنعت Maintenance پر لاکھوں روپے خرچ کر سکتی ہے تو کیا Noise Control کے لیے Engineering Solution اختیار نہیں کیا جا سکتا؟

اگر کمپنی حادثے کے بعد Investigation کر سکتی ہے تو حادثے سے پہلے Hazard Identification اور Noise Assessment کیوں نہیں؟

شور نظر آتا ہے مگر سرکاری اداروں کی ملی بھگت سے سب اچھے کی رپورٹ دی جاتی ہے اور ورکروں کی صحت کے مسائل کا حل کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔ یہ زمینی حقائق ہیں اور ہم سب جانتے ہیں، مگر کب تک؟

ملک ظفر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے