استاد: نسلوں کا معمار یا کاروباری؟

ٹیچر ڈے: استاد قوم کا محسن ہے یا تاجر؟
تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 229 میں لکھا ہے کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا‘‘ یعنی ’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔‘‘ یہ فرمانِ نبوی ﷺ تعلیم و تدریس کی عظمت، استاد کے مقام اور علم کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ اسلام نے علم کو انسان کی فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت کا ذریعہ قرار دیا ہے جبکہ استاد کو اس سفر میں رہنمائی کرنے والا ایسا محسن سمجھا جس کی تربیت سے افراد ہی نہیں، پوری قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

ہر سال ٹیچر ڈے منایا جاتا ہے، اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے، تقاریب منعقد ہوتی ہیں، پھول پیش کیے جاتے ہیں اور استاد کی عظمت پر تقاریر کی جاتی ہیں۔ لیکن اس دن ایک سوال ہمارے اجتماعی ضمیر کے دروازے پر دستک دیتا ہے کہ استاد قوم کا محسن ہے یا تاجر؟ کیا آج بھی درس گاہیں علم و کردار کی تعمیر کا مرکز ہیں یا تعلیم محض ایک کاروبار بنتی جا رہی ہے؟ کیا استاد آج بھی اپنے شاگردوں کے مستقبل کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے یا اس کی ترجیحات میں معاوضہ، اضافی آمدن اور ذاتی مفادات سب سے آگے آ چکے ہیں؟ یہ سوال ہر استاد کے بارے میں نہیں، بلکہ اس طرزِ فکر کے بارے میں ہے جس نے تعلیم جیسے مقدس شعبے کو تجارتی مفادات کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔

ماضی کے اساتذہ کا ذکر کیا جائے تو ذہن میں ایسی شخصیات کے چہرے ابھرتے ہیں جن کی زندگی سادگی، کردار، علم دوستی اور بے لوث خدمت کی مثال ہوا کرتی تھی۔ وہ استاد کو محض ملازمت کرنے والا شخص نہیں بلکہ نسلوں کا معمار سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک تدریس صرف کتاب کے صفحات پڑھا دینے کا نام نہیں تھا، بلکہ طالب علم کی شخصیت سنوارنا، اس کی اخلاقی تربیت کرنا، اس میں سچائی، دیانت، محنت اور احترامِ انسانیت کے جذبات پیدا کرنا بھی ان کی ذمہ داری تھی۔ کل کا استاد اپنے شاگرد کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتا تھا۔ کسی طالب علم کی کمزوری اس کے لیے پریشانی کا باعث بنتی تو وہ اسے نظر انداز کرنے کے بجائے اضافی وقت دیتا، سبق دوبارہ سمجھاتا اور اس کی صلاحیتوں کو نکھارنے کی کوشش کرتا۔ غریب گھرانے کا بچہ ہو یا کسی صاحبِ حیثیت خاندان کا چشم و چراغ، ایک مخلص استاد کی نگاہ میں علم حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والا ہر طالب علم یکساں توجہ اور شفقت کا مستحق ہوتا تھا۔

اُس دور میں استاد کا احترام اس کے علم، کردار، قربانی اور شاگردوں کے ساتھ مخلصانہ تعلق کی بنیاد پر تھا۔ لوگ اپنے بچوں کو استاد کے سپرد کرتے ہوئے مطمئن ہوتے تھے کہ وہ انہیں علم کے ساتھ تہذیب اور زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سکھائے گا۔ استاد کی ڈانٹ کو اصلاح، اس کی نصیحت کو رہنمائی اور اس کی محنت کو اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ یقیناً ماضی کا ہر استاد فرشتہ صفت نہیں تھا اور نہ ہی آج کے تمام اساتذہ کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ ہر دور میں اچھے اور برے لوگ موجود رہے ہیں، تاہم استاد اور شاگرد کے رشتے میں اخلاص، احترام اور شخصی تعلق کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ بہت سے اساتذہ محدود وسائل اور معمولی تنخواہوں کے باوجود اپنے فرائض کو عبادت سمجھ کر ادا کرتے اور اپنی زندگی علم کی شمع روشن کرنے کے لیے وقف کر دیتے تھے۔

اس کے برعکس آج کے تعلیمی ماحول میں بعض ایسے رجحانات نمایاں ہوئے ہیں جنہوں نے استاد کے مقام اور شعبۂ تعلیم کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ تعلیم کو کاروبار بنانے کی دوڑ میں کہیں طالب علم کی ذہنی نشوونما ثانوی حیثیت اختیار کر گئی ہے تو کہیں والدین کی مالی استطاعت کو تعلیمی کامیابی کے حصول سے جوڑ دیا گیا ہے۔ بعض تعلیمی اداروں میں بھاری فیسوں، اضافی اخراجات اور منافع کی دوڑ نے تعلیم کے بنیادی مقصد کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے کہ استاد کا مناسب معاوضہ طلب کرنا یا اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانا ہرگز قابلِ مذمت نہیں۔ استاد بھی ایک انسان ہے، اس کے اپنے گھر کے اخراجات، بچوں کی تعلیم، علاج اور دیگر ضروریات ہوتی ہیں۔ اسے باعزت روزگار، مناسب تنخواہ اور بہتر حالاتِ کار فراہم کرنا ریاست، اداروں اور معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جائز معاوضے کی خواہش، حرص و ہوس میں تبدیل ہو جائے اور علم کی خدمت کے بجائے پیسہ کمانا تدریس کا بنیادی مقصد بن جائے۔

آج بعض اساتذہ کے بارے میں والدین کی شکایات سامنے آتی ہیں کہ وہ کلاس میں پوری توجہ سے پڑھانے کے بجائے طلبہ کو نجی ٹیوشن کی طرف راغب کرتے ہیں، تاکہ وہی سبق اضافی رقم لے کر دوبارہ پڑھایا جا سکے۔ کہیں طالب علم کی تعلیمی کمزوری کو دور کرنے کے بجائے اسے کاروباری موقع سمجھ لیا جاتا ہے، تو کہیں امتحانی نتائج اور نمبروں کی دوڑ میں بچے کی حقیقی قابلیت اور ذہنی صلاحیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اگر ایسا کسی استاد یا ادارے کی طرف سے کیا جا رہا ہو تو یہ محض پیشہ ورانہ کوتاہی نہیں بلکہ اس اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے جو والدین اپنے بچوں کو استاد کے حوالے کرتے وقت کرتے ہیں۔

تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا، امتحان پاس کرنا یا ملازمت کے لیے سند حاصل کرنا نہیں، بلکہ ایک باشعور، ذمہ دار اور باکردار انسان کی تعمیر بھی ہے۔ اگر طالب علم کتابیں تو پڑھ لے لیکن سچ بولنے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے، دیانت داری اختیار کرنے اور معاشرے کے لیے مفید بننے کا شعور حاصل نہ کر سکے تو تعلیمی عمل اپنی ایک اہم منزل سے محروم رہ جاتا ہے۔ استاد کی ذمہ داری صرف نصاب مکمل کرنا نہیں بلکہ علم کو زندگی سے جوڑنا بھی ہے۔

اس صورتِ حال میں صرف استاد کو موردِ الزام ٹھہرا دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ تعلیمی نظام کی خرابیاں، اساتذہ کی کم تنخواہیں، غیر ضروری انتظامی دباؤ، سیاسی مداخلت، میرٹ کی پامالی، طبقاتی فرق اور تعلیمی اداروں میں احتساب کا فقدان بھی اس بحران کے اہم عوامل ہیں۔ جب معاشرہ کامیابی کا معیار صرف دولت، عہدہ اور ظاہری شان و شوکت کو بنا لے تو اس کے اثرات درس گاہوں تک پہنچنا فطری امر ہے۔ تاہم حالات جیسے بھی ہوں، استاد کی پیشہ ورانہ دیانت، طالب علم کے ساتھ انصاف اور علم سے وفاداری کی اہمیت کم نہیں ہو جاتی۔

ایک اچھا استاد آج بھی موجود ہے، جو محدود وسائل کے باوجود اپنے شاگردوں کے لیے اضافی محنت کرتا ہے، کمزور طالب علم کا حوصلہ بڑھاتا ہے، ذہین طالب علم کی صلاحیت کو درست سمت دیتا ہے اور اپنے کردار سے بچوں کے لیے مثال بنتا ہے۔ ایسے اساتذہ معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی محنت کو تسلیم کرنا، انہیں مناسب معاوضہ دینا اور ان کی عزت و تکریم کا تحفظ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ کسی ایک استاد کی بدعنوانی یا پیشہ ورانہ بددیانتی کی بنیاد پر پورے طبقے کو بدنام کرنا بھی انصاف نہیں۔

احترام محض مطالبہ کرنے سے حاصل نہیں ہوتا، اسے کردار اور عمل سے برقرار رکھا جاتا ہے۔ استاد کا منصب جتنا بلند ہے، اس کی ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہے۔ اگر وہ اپنے شاگردوں کے ساتھ ناانصافی کرے، علم کو پیسے کے حصول کا ذریعہ بنا لے، بچوں کی عزتِ نفس مجروح کرے یا اپنے فرائض سے غفلت برتے تو اسے اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینا ہوگا۔ معاشرے میں استاد کے مقام کی بحالی کے لیے صرف ماضی کی عظمت کے قصے دہرانا کافی نہیں، بلکہ حال میں اس عظمت کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہے۔

والدین کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کی تعلیم کو محض مہنگے اسکول، بڑی عمارت اور نمایاں نتائج تک محدود نہ رکھیں، بلکہ استاد کے اخلاق، تدریسی صلاحیت اور بچے کی حقیقی تربیت کو بھی اہمیت دیں۔ حکومت اور تعلیمی اداروں کو اساتذہ کے جائز حقوق کا تحفظ، بہتر تربیت، شفاف بھرتیوں اور مؤثر احتساب کو یقینی بنانا چاہیے۔ نجی تعلیمی اداروں میں بھی تعلیم کو محض منافع کی صنعت بنانے کے بجائے اسے ایک سماجی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

ٹیچر ڈے ہمیں صرف استاد کو پھول پیش کرنے یا اس کی تصویر کے ساتھ تعریفی پیغام شائع کرنے کا موقع نہیں دیتا، بلکہ اپنے تعلیمی رویوں کا محاسبہ کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔ اس دن ہر استاد کو خود سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا اس نے اپنے شاگردوں کو وہی علم، توجہ اور رہنمائی دی جس کا وہ حق دار تھا؟ کیا اس نے کسی کمزور طالب علم کو آگے بڑھانے کی کوشش کی؟ کیا اس نے اپنے پیشے کی حرمت اور والدین کے اعتماد کا پاس رکھا؟

اسی طرح ریاست اور معاشرے کو بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ہم نے استاد کو وہ عزت، معاشی تحفظ اور سازگار ماحول فراہم کیا ہے جس کا وہ مستحق ہے؟ کیا ہم نے علم کی قدر کو دولت کی چمک سے بلند رکھا ہے؟ اور کیا ہماری درس گاہیں واقعی ایسے انسان تیار کر رہی ہیں جو ملک و قوم کے لیے باعثِ فخر بن سکیں؟

حقیقت یہ ہے کہ استاد جب اپنے علم، کردار اور اخلاص سے شاگرد کی زندگی بدلتا ہے تو وہ قوم کا محسن ہوتا ہے، لیکن جب وہ علم کو محض کمائی کا ذریعہ بنا کر اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑ لیتا ہے تو وہ اپنے عظیم منصب سے انصاف نہیں کرتا۔ ہمیں ایسے استاد کی ضرورت ہے جو اپنے شاگردوں کو اپنی اولاد سمجھے، علم کو امانت جانے، تدریس کو ذمہ داری سمجھے اور اپنے کردار سے یہ ثابت کرے کہ قوموں کی تعمیر درس گاہوں میں روشن ہونے والی علم کی شمعوں سے ہوتی ہے۔

آئیے، اس ٹیچر ڈے پر استاد کی عظمت کو صرف الفاظ میں نہیں، عمل میں بھی تسلیم کریں۔ استاد کے جائز حقوق کا تحفظ کریں، اس کی بے لوث خدمات کو خراجِ تحسین پیش کریں اور اس سے یہ توقع بھی رکھیں کہ وہ اپنے منصب کی حرمت برقرار رکھے۔ قوم کا مستقبل استاد کے ہاتھ میں ہوتا ہے؛ وہ چاہے تو نسلوں کو سنوار دے اور اگر اپنے فرض سے غفلت برتے تو یہی نسلیں علم کے باوجود شعور سے محروم رہ سکتی ہیں۔ استاد کی اصل پہچان اس کے شاگردوں کے کردار، علم اور کامیابی میں زندہ رہتی ہے، اور یہی وہ معیار ہے جو استاد کو تاجر سے ممتاز اور قوم کا حقیقی محسن بناتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے