رینالہ خورد(سٹی رپورٹر)تحصیلدار آفس رینالہ خورد میں کرپشن، رشوت ستانی اور جائیدادوں کے غلط اندراج سے سرکاری خزانے کو لاکھوں روپے نقصان پہنچانے کے شدید الزامات کے بعد اینٹی کرپشن اوکاڑہ نے تحصیلاار عثمان علی کے خلاف باقاعدہ انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق تحصیلدار آفس رینالہ خورد اس وقت بے ضابطگیوں اور لوٹ مار کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں رجسٹریوں کی مد میں آنے والے سائلین سے مبینہ طور پر بھاری رشوت وصول کی جاتی ہے اور سرکاری فیسوں میں گھپلے کر کے قومی خزانے کو چونا لگایا جا رہا ہے۔
انکشاف ہوا ہے کہ تحصیلدار عثمان علی نے رینالہ خورد کی اہم اور مرکزی شہری آبادی "مسلم ٹاؤن” میں واقع ایک قیمتی مکان کو دستاویزات میں سکنی کے بجائے زرعی جائیداد ظاہر کر کے کم فیس پر رجسٹری پاس کی، جس سے سرکاری خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچا۔ اسی طرح نواحی گاؤں "27 ٹو ایل” میں بھی پانچ پانچ مرلے کے نصف درجن سے زائد رہائشی پلاٹوں کو خلافِ قانون زرعی جائیداد میں تبدیل کر کے رجسٹری کی گئی۔
اس کے علاوہ چند ماہ قبل ایک سنگین غیر قانونی اقدام سامنے آیا تھا جس میں ایک متوفی (مردہ) شخص کے نام پر مکان کی رجسٹری کر دی گئی۔ جب اس جعل سازی کے کاغذات اور خبر ذرائع ابلاغ پر منظر عام پر آئے تو قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے خلافِ آئین و قانون اس رجسٹری کو خود ہی منسوخ کر دیا گیا۔
شہریوں اور سائلین کی جانب سے موصول ہونے والی متعدد متفرق درخواستوں اور ثبوتوں پر کارروائی کرتے ہوئے اینٹی کرپشن اوکاڑہ نے تحصیلدار رینالہ خورد کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور ریکارڈ طلب کر کے معاملے کی باضابطہ انکوائری شروع کر دی ہے۔