میہڑ کے نواحی گاؤں میں پرانی دشمنی بھڑک اٹھی، فائرنگ سے ایک شخص قتل، علاقے میں کشیدگی

گھوٹکی ،میہڑ (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری/ منظور علی جوئیہ):میہڑ کے فرید آباد تھانے کی حدود میں واقع گاؤں ڈرٻ (ڈب کوڑو) میں چانڈیو برادری کے دو گروپوں کے درمیان مبینہ پرانی دشمنی اور زمینی تنازع ایک بار پھر خونریز تصادم میں تبدیل ہوگیا، جس کے نتیجے میں ام رباب چانڈیو کے بہنوئی ریاض چانڈیو فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئے، جبکہ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس اور کشیدگی پھیل گئی۔

مقامی ذرائع کے مطابق گاؤں میں چانڈیو برادری کے دو فریقوں کے درمیان پہلے سے جاری تنازع نے اچانک شدت اختیار کر لی، جس کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ فائرنگ کے دوران ریاض چانڈیو کو گولیاں لگیں اور وہ شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی فرید آباد پولیس کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور صورتحال کو قابو میں لینے کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے۔ پولیس نے مقتول کی لاش تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے تعلقہ اسپتال میہڑ منتقل کی، جہاں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد میت ورثا کے حوالے کر دی گئی۔

ذرائع کے مطابق فائرنگ کے واقعے کے بعد دونوں فریقین نے علاقے میں مورچہ بندی کر لی، جس کے باعث گاؤں اور گردونواح میں کشیدگی برقرار رہی۔ کسی بھی مزید ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور علاقے کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ پرانے زمینی تنازع اور دیرینہ دشمنی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ام رباب چانڈیو گزشتہ کئی برسوں سے اپنے والد، دادا اور چچا کے قتل کے مقدمے میں انصاف کے لیے قانونی جدوجہد کرتی رہی ہیں۔ یہ مقدمہ سندھ کے نمایاں اور حساس مقدمات میں شمار ہوتا ہے۔ حال ہی میں اس مقدمے میں ٹرائل کورٹ نے تمام نامزد ملزمان کو بری کر دیا تھا، جس کے خلاف ام رباب چانڈیو نے اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ریاض چانڈیو، جو حالیہ فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہوئے، ام رباب چانڈیو کے بہنوئی تھے، جس کے باعث اس واقعے نے بھی عوامی اور سماجی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

ذرائع کے مطابق چانڈیو برادری کے دونوں گروپوں کے درمیان زمین کے تنازع پر ماضی میں بھی متعدد بار کشیدگی اور جھڑپوں کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے حوالے سے مزید قانونی کارروائی جاری ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر شواہد کی روشنی میں مقدمہ درج کرکے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان برقرار رکھنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے