واربرٹن (کیو این ورلڈ /نامہ نگار عبدالغفار چوہدری) واربرٹن بیوٹیفیکیشن منصوبہ شہریوں کے لیے وبالِ جان بن گیا ہے۔ ترقیاتی کاموں کی سست روی اور ناقص حکمت عملی کے باعث اڑنے والی دھول مٹی اور گرد و غبار دمہ اور سانس کی سنگین بیماریوں کا باعث بننے لگا ہے جبکہ انتظامیہ مبینہ طور پر غفلت کا شکار ہے، جس پر شہریوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق واربرٹن شہر کو خوبصورت بنانے کے لیے شروع کیا گیا بیوٹیفیکیشن منصوبہ اب شہریوں کے لیے عذاب کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ شہر کی اہم شاہراہوں اور بازاروں کی کھدائی کے بعد کام یا تو ادھورا چھوڑ دیا گیا ہے یا پھر اس کی رفتار انتہائی سست ہے، جس کے باعث مہینوں گزرنے کے باوجود کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
سڑکوں کی توڑ پھوڑ اور مٹی کے ڈھیروں کے باعث پورا شہر شدید گرد و غبار کی لپیٹ میں ہے۔ ہلکی ہوا یا گاڑیوں کے گزرنے سے مٹی کے طوفان اٹھتے ہیں جس سے دکانیں اور بازار متاثر ہو رہے ہیں۔
اس صورتحال کے باعث سانس، دمہ، آنکھوں اور گلے کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور مقامی ہسپتالوں و کلینکس میں روزانہ درجنوں مریض رپورٹ ہو رہے ہیں جن میں بچوں اور بزرگوں کی تعداد زیادہ ہے۔
مقامی تاجروں اور شہریوں نے کہا ہے کہ خوبصورتی کے نام پر شہر کا نقشہ بگاڑ دیا گیا ہے۔ ٹف ٹائلز مہینوں سے اکھاڑی ہوئی ہیں، جس سے گرد و غبار کا راج ہے، جبکہ اسی حالت میں بعض مقامات پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ شہریوں نے الزام لگایا کہ انتظامیہ اور ٹھیکیدار مکمل طور پر لاپرواہ ہیں اور سڑکوں پر پانی کے چھڑکاؤ تک کا انتظام نہیں کیا گیا۔
عوامی و سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب سے فوری نوٹس لینے اور منصوبے کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔