غزہ فلوٹیلا کیس، ترکیہ میں نیتن یاہو سمیت 35 افراد کے خلاف کارروائی جاری

انقرہ (کیو این این ورلڈ) ترکیہ نے غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنوں کے خلاف مبینہ کارروائی کے مقدمے میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کرنے کی باضابطہ درخواست کردی ہے۔ ترکیہ کے وزیر انصاف آکِن گورلیک نے بتایا کہ نیتن یاہو اور ایک دوسرے اسرائیلی ملزم افیک موسکووچ کے خلاف گرفتاری کے احکامات پہلے ہی جاری کیے جاچکے ہیں، جبکہ اب انہیں بین الاقوامی سطح پر مطلوب قرار دلانے کے لیے ریڈ نوٹس کی کارروائی شروع کی گئی ہے۔

ترک وزیر انصاف کے مطابق استنبول کی 11ویں ہائی کرمنل کورٹ میں اس معاملے پر 35 ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی جاری ہے، جن میں نیتن یاہو اور افیک موسکووچ بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق عدالت نے 14 جولائی 2026 کو نیتن یاہو اور موسکووچ کے خلاف نسل کشی کے الزامات کے تحت گرفتاری کے احکامات جاری کیے تھے، جس کے بعد وزارتِ انصاف نے وزارتِ داخلہ سے دونوں کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس کے حصول کے لیے کارروائی کرنے کی درخواست کی اور متعلقہ دستاویزات وزارتِ خارجہ کو بھی ارسال کردی گئیں۔

آکِن گورلیک کے مطابق مقدمہ بین الاقوامی پانیوں میں غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنوں کے خلاف مبینہ مسلح مداخلت اور انہیں حراست میں لینے کے واقعات سے متعلق ہے۔ ترک حکام کے مطابق مقدمے میں انسانیت کے خلاف جرائم، نسل کشی، آزادی سے محرومی، تشدد، املاک کو نقصان پہنچانے، سنگین نوعیت کی ڈکیتی اور نقل و حمل کے ذرائع پر قبضے سمیت متعدد الزامات شامل ہیں۔

ترک وزیر انصاف نے کہا کہ ان کا ملک غزہ میں مبینہ جرائم پر پردہ ڈالنے یا ذمہ دار افراد کو استثنیٰ فراہم کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت دستیاب تمام ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اس معاملے کو آگے بڑھائے گا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ترکیہ کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان پر سخت تنقید کی اور اس اقدام کو اسرائیلی قیادت کو دباؤ میں لانے کی کوشش قرار دیا۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ردعمل میں اردوان پر مختلف الزامات عائد کیے گئے اور کہا گیا کہ اسرائیل ترکیہ کی جانب سے اپنی جارحیت کو شام تک پھیلانے کی کوشش کو برداشت نہیں کرے گا۔

ترکیہ کی جانب سے ریڈ نوٹس کی درخواست کے بعد معاملہ اب انٹرپول کے جائزے کے مرحلے میں جائے گا۔ ریڈ نوٹس کسی شخص کی گرفتاری کا خودکار بین الاقوامی وارنٹ نہیں ہوتا بلکہ رکن ممالک سے کسی مطلوب شخص کو تلاش کرنے اور عارضی طور پر گرفتار کرنے کی درخواست ہوتی ہے؛ حتمی کارروائی انٹرپول کے قواعد اور متعلقہ قانونی تقاضوں کے مطابق ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے