تل ابیب(ویب ڈیسک) اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے برطانیہ پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے اسے ’’اسلامی جمہوریہ برطانیہ‘‘ قرار دے دیا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے آرمی ریڈیو کو دیے گئے ایک طویل پوڈکاسٹ انٹرویو کے دوران برطانیہ میں اسرائیل سے متعلق موجودہ رویوں پر بات کرتے ہوئے یہ متنازع ریمارکس دیے۔
انٹرویو کے دوران نیتن یاہو نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابق برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل کے بیٹے رینڈولف چرچل اور پوتے ونسٹن اسپینسر چرچل بطور صحافی اسرائیل آئے تھے اور انہوں نے جنگ کے دوران اسرائیل کی بہت مثبت کوریج کی تھی۔
نیتن یاہو نے اس حوالے سے موجودہ صورت حال کا موازنہ کرتے ہوئے ہنستے ہوئے کہا کہ آج ایسی کوریج برطانیہ میں نظر نہیں آتی اور برطانیہ کو موجودہ حالات میں ’’اسلامی جمہوریہ برطانیہ‘‘ کہا جا سکتا ہے۔
انٹرویو کے دوران جب میزبان نے نیتن یاہو سے سوال کیا کہ ’’کیا اب پورا یورپ ہی ایسا نہیں ہوگیا؟‘‘ تو اسرائیلی وزیراعظم نے جواب دیا کہ ’’ہاں‘‘، جس کے بعد انہوں نے یورپی ممالک میں اسرائیل کے حوالے سے بدلتے ہوئے عوامی اور سیاسی رجحانات پر بھی طنزیہ انداز اپنایا۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ’’پہلا جوہری اسلامی جمہوریہ ملک اسلامی جمہوریہ برطانیہ ہوگا‘‘، جبکہ ساتھ ہی ایران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ ایران ایسی کوئی دوسری ریاست نہ بننے پائے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے اس بیان میں برطانیہ کے ساتھ ساتھ ایران اور یورپ کے حوالے سے بھی سخت سیاسی طنز نمایاں ہے۔ ان کے تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ کی جنگ، اسرائیل کی پالیسیوں اور فلسطینیوں کے حوالے سے یورپی ممالک میں اسرائیل کے بارے میں سیاسی و عوامی اختلافات نمایاں ہیں۔
نیتن یاہو کے بیان پر سیاسی سطح پر ردعمل کا امکان ہے، کیونکہ برطانیہ کو ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ قرار دینا ایک غیر معمولی اور طنزیہ سیاسی تعبیر ہے، جسے اسرائیلی وزیراعظم نے برطانیہ کے موجودہ اسرائیل مخالف یا تنقیدی رجحانات پر تبصرے کے طور پر استعمال کیا۔