محنت کشوں کا لہو
تحریر ۔ سید نذیر شاہ
محنت کش کا کوئی مخصوص مذہب نہیں ہوتا، کوئی مخصوص زبان نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کا تعلق کسی جغرافیائی سرحد یا صوبے سے ہوتا ہے۔ اس کی اصل پہچان، اس کا سچا تعارف صرف اس کی شبانہ روز محنت ہوتی ہے۔ بلوچستان کی دم گھوٹتی اندھی کوئلے کی کانوں کی گہرائیوں میں پسینہ بہاتا کان کن ہو، فیصل آباد کی ٹیکسٹائل ملوں میں دھاگے جوڑتا کارکن ہو، سندھ کا ہاری ہو یا خیبر پختونخوا کا مزدور یہ سب ایک ہی طبقاتی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ ان سب کی معاشی محرومیاں ایک جیسی ہیں، ان کے خوابوں کی بساط ایک جتنی ہے اور ان کے سینوں میں پلنے والا درد بھی بالکل مشترک ہے۔ یہ وہ مظلوم اور خاموش طبقہ ہے جس نے صدیوں سے اس دھرتی کو اپنے خون اور پسینے سے سیراب کیا ہے۔ یہ سب دراصل اسی کچلے ہوئے سماج کا حصہ ہیں، جو اس ملک کی گرتی ہوئی معیشت کا پورا بوجھ اپنے ناتواں اور زخمی کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں، لیکن افسوس کہ جس معاشرے کو یہ اپنے خون پسینے سے زندہ رکھتے ہیں، وہی معاشرہ انہیں تحفظ دینے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتا ہے۔
اس بے بسی کی سب سے المناک اور دل دہلا دینے والی تصویر ہمیں بلوچستان میں نظر آتی ہے، جہاں رزقِ حلال کی تلاش میں نکلنے والے محنت کشوں کی زندگی سب سے سستی اور غیر محفوظ ہو چکی ہے۔ بلوچستان کی زمین جتنی اپنے بیش بہا قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، ستم ظریفی یہ ہے کہ اتنی ہی ان غریب محنت کشوں کے پاکیزہ خون سے سرخ ہو چکی ہے۔ کبھی کوئلے کی تاریک کانوں میں کام کرنے والے درجنوں مزدور ایک ہی رات میں وحشت کا نشانہ بن جاتے ہیں، کبھی ہیئر کٹنگ سیلون میں کام کرنے والے غریب کاریگروں کو بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے، کبھی سڑکوں پر بچھایا گیا بارود ان کی زندگیوں کو ہوا میں اڑا دیتا ہے، تو کبھی سنگدل دہشت گرد رات کے اندھیرے میں ان بےگناہ محنت کشوں کے کچے مکانوں میں گھس کر انہیں قطاروں میں کھڑا کرتے ہیں اور ان کے شناختی کارڈ دیکھ کر ان کے جسموں کو گولیوں سے چھلنی کر دیتے ہیں۔
ان نہتے انسانوں کا قصور کیاہے؟ ان کے پاس نہ تو دفاع کے لیے کوئی ہتھیار ہوتا ہے اور نہ ہی لبوں پر کوئی سیاسی نعرہ۔ ان کے کھردرے ہاتھوں میں صرف ایک بیلچہ، ایک کدال یا محنت کے اوزار ہوتے ہیں اور دل میں مہینے کے آخر میں اپنے دور دراز کچے گھروں میں بیٹھی بوڑھی ماں، بیمار باپ یا بھوکے بچوں کو بھیجنے کے لیے چند ہزار روپے کا ایک معصوم سا خواب ہوتا ہے۔جب یہ بے گناہ محنت کش بے دردی سے قتل کر دیے جاتے ہیں، تو یہ سانحہ صرف ایک انسان کی آخری ہچکی پر ختم نہیں ہوتا۔ اصل اور تاعمر سسکنے والا المیہ تو ان کے پیچھے رہ جانے والے ان خاندانوں کا ہوتا ہے اب سوال یہ ہے کہ وہ لاچار بیوہ اپنے یتیم بچوں کے دانے دانے کے لیے کس کا دروازہ کھٹکھٹائے گی؟ وہ لاٹھی کے سہارے چلنے والا بوڑھا باپ اپنے جوان بیٹے کے جنازے کا بوجھ اٹھانے کے بعد کس امید پر جئے گا؟ یہ وہ کلیجہ چاک کر دینے والے انسانی سوالات ہیں جو ہمارے مقتدر حلقوں کے سیاسی بیانیوں، ٹی وی مباحثوں یا پریس کانفرنسوں میں کبھی نہیں گونجتے، کیونکہ مفاد پرست سیاست دانوں اور مقتدر اشرافیہ کو ان بہتے ہوئے آنسوؤں میں اپنا کوئی سیاسی فائدہ نظر نہیں آتا۔
جو مسلح گروہ بندوق کے زور پر اپنے پرتشدد نظریات کو حقوق اور آزادی کی جدوجہد کا لبادہ اوڑھاتے ہیں، انہیں اس آفاقی انسانی سوال کا جواب ضرور دینا ہوگا کہ ایک غریب محنت کش، جو صرف اپنے بوڑھے والدین اور معصوم بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے پنجاب یا دیگر صوبوں کے کم آمدنی والے علاقوں سے اپنا گھر بار چھوڑ کر بلوچستان آیا تھا، اس کا اس لایعنی اور خونریز جنگ سے کیا تعلق تھا؟ کیا اب ایک انسان کی پہچان اس کی شبانہ روز محنت اور ایمانداری نہیں، بلکہ اس کا صوبہ، نسل یا زبان بن چکی ہے؟ جب کسی مزدور کو صرف اس لیے گولی مار دی جائے کہ اس کا تعلق پنجاب یا سندھ سے ہے، تو یہ کسی حقوق کی جنگ نہیں بلکہ نسلی تعصب اور وحشیانہ نفرت کا بدترین اشتہار ہے۔ دوسری طرف، جب ریاستی سلامتی اور طاقت کے نشے میں بے گناہ شہریوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جاتا ہے یا ماورائے عدالت حراست میں مار دیا جاتا ہے، تو وہ بھی انصاف نہیں بلکہ قانون کی آڑ میں کیا جانے والا ظلم ہے۔ یہ ظلم چاہے جس طرف سے بھی ڈھایا جائے، اس کی قیمت ہمیشہ عام اور کمزور شہری کو ہی اپنی جان دے کر چکانی پڑتی ہے۔
اس پورے منظر نامے میں سب سے زیادہ تکلیف دہ اور منافقانہ پہلو یہ ہے کہ محنت کشوں کے حقوق کے نعرے لگانے والے نام نہاد رہنما اور دانشور اس درندگی پر اکثر مجرمانہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ جلسوں اور ریلیوں میں محرومیوں کا رونا رونے اورغریبوں کے حقوق و اتحاد کا بلند و بانگ راگ الاپنے والے رہنما اور قوم پرست جب اپنے ہی وطن میں ایک غریب مزدور کی لاش پر مصلحت پسندی اور سیاسی مفادات کی چادر اوڑھ کر گونگے بن جائیں، تو ان کا یہ سکوت ان کے اپنے نظریات کی موت کا کھلا اعلان ہوتا ہے۔ حقیقی انصاف اور انسانیت کبھی جغرافیے، نسل یا سیاسی مفادات کی قید میں نہیں رہتے، بلکہ وہ ہر مظلوم کے بہتے ہوئے لہو کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے یہ بیشتر مزدور انتہائی غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے خاندانوں کے واحد کفیل ہوتے ہیں، جن کے چلے جانے سے پورا خاندان معاشی اور نفسیاتی طور پر زندہ درگور ہو جاتا ہے
تاریخ نےسکھایا ہے کہ محرومی اور ناانصافی کا سدِباب کبھی بھی بندوق کے دہانے سے نہیں ہو سکتا، اور نہ ہی انتہا پسندانہ رویوں سے کبھی حقیقی حقوق حاصل کیے جا سکتے ہیں جہاں بھی تبدیلی کے لیے بندوق کا سہارا لیا گیا، وہاں صرف نئی بندوقوں نے جنم لیا اور اس لامتناہی تشدد کا خمیازہ ہمیشہ عام اور غریب آدمی کو ہی بھگتنا پڑا۔ کان کن، کسان ،نائی اور فیکٹری کا مزدور ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہیں۔ ان کا اصل دشمن کوئی دوسرا صوبہ یا زبان نہیں، بلکہ وہ فرسودہ قبائلی نظام، کرپٹ اشرافیہ اور کج بحث ذہنیت ہے جو اپنے مفادات کی بقا کے لیے انسانی جانوں کے زیاں کو جائز سمجھتی ہے۔ بلوچستان کی مٹی پر بہنے والا نہتے محنت کشوں کا لہو ہو یا سرحدوں اور چیک پوسٹوں پر وطن کی مٹی کا قرض چکاتے ہوئے شہید ہونے والے غریب سپاہیوں کا لہو، یہ دونوں اسی دھرتی کے سینے میں جذب ہوتے ہیں۔ ان دونوں کے پسِ پردہ اجڑنے والے خاندانوں کے آنسوؤں کا رنگ ایک ہے، ان کا دکھ سانجھا ہے اور ان کی تڑپ بھی ایک جیسی ہے۔