سیالکوٹ: (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف مدثر رتو ) تھانہ رنگپورہ کے علاقے میں واقع ایک سرکاری سکول میں نہم جماعت کی طالبہ کے ساتھ مبینہ ہراسگی کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے تعلیمی اداروں میں طلبہ کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
متاثرہ طالبہ کے مطابق وہ سپلیمنٹری امتحان دینے کے بعد سکول کے گیٹ کی جانب جا رہی تھی کہ اسی دوران سکول کے ایک ملازم خرم شہزاد نے مبینہ طور پر اسے دھوکے سے عقبی کمرے میں لے جا کر ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ طالبہ کا کہنا ہے کہ ملزم اس سے قبل بھی اسے ہراساں کرنے کی کوشش کر چکا تھا، تاہم اس بار صورتحال زیادہ سنگین ہو گئی۔
خوش قسمتی سے اسی دوران سکول کی پرنسپل موقع پر پہنچ گئیں، جس پر طالبہ نے فوری طور پر تمام واقعہ بیان کر دیا۔ واقعے کے فوراً بعد متاثرہ طالبہ، جو کہ یتیم بھی ہے، نے اپنی والدہ اور ماموں کو فون کر کے سکول طلب کر لیا۔
پولیس نے متاثرہ طالبہ کی والدہ کی مدعیت میں فوری مقدمہ درج کرتے ہوئے نامزد ملزم خرم شہزاد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
دوسری جانب سی ای او ایجوکیشن سیالکوٹ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزم کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے اور اس کے خلاف محکمانہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ سی ای او ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ایسے عناصر کے لیے محکمہ تعلیم میں کوئی جگہ نہیں۔
واقعے کے بعد شہری حلقوں اور والدین میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ خصوصاً بچیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اہل علاقہ اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بطور ایک خاتون اور ماں اس افسوسناک واقعے کا فوری نوٹس لیں، متاثرہ طالبہ کو انصاف فراہم کریں اور صوبے بھر کے تعلیمی اداروں میں طالبات کے تحفظ کے لیے سخت اور واضح پالیسی اقدامات یقینی بنائیں تاکہ آئندہ کسی بچی کو ایسے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔