خالصتان ریفرنڈم 16 اگست کو امریکا میں ہوگا، گرپتونت سنگھ پنوں

لاہور: سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعظم نریندرا مودی کے دور حکومت میں بھارت میں ایک بار پھر سکھوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔

لاہور پریس کلب میں ویڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس کرتے ہوئے گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ بھارت میں سکھ برادری کو مختلف مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بھاری قرضوں کے باعث 18 ہزار سکھ کسان خودکشی کرچکے ہیں، جو سکھ کاشتکاروں کی سنگین معاشی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔

گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ سکھ برادری اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے ووٹ کے ذریعے تبدیلی کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ خالصتان کے قیام کے لیے 16 اگست کو امریکا میں ریفرنڈم ہوگا، جس میں امریکا سمیت مختلف ممالک میں آباد سکھوں کو ووٹ دینے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ خالصتان کے قیام کے مطالبے کو آگے بڑھانے کے لیے سکھ فار جسٹس کی جانب سے ووٹنگ کا عمل جاری رکھا جائے گا اور دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم سکھ اس عمل میں حصہ لیں گے۔

گرپتونت سنگھ پنوں نے پاکستانی عوام کو جشن آزادی کی مبارکباد بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان ترقی کی منازل طے کر رہا ہے اور موجودہ صورتحال میں پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے پاکستان اور پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان کی عالمی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے