سان ڈیاگو (کیو این این ورلڈ) امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں قائم بڑے اسلامی مرکز میں ہونے والی خوفناک فائرنگ کے نتیجے میں سیکیورٹی گارڈ سمیت 3 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ پولیس کی جوابی کارروائی اور تعاقب کے دوران 2 مبینہ حملہ آور بھی ہلاک ہو گئے۔ مسلح حملہ آوروں کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر فورسز نے علاقے کی سخت ناکا بندی کر دی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ سان ڈیاگو کے معروف اور سب سے بڑے اسلامک سینٹر میں پیش آیا، جہاں اچانک فائرنگ کی آوازیں گونج اٹھیں۔ فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
واقعے کے بعد پولیس، ایف بی آئی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ سان ڈیاگو پولیس چیف کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ نفرت انگیزی (Hate Crime) پر مبنی حملہ ہو سکتا ہے۔ حکام نے مزید بتایا کہ دونوں مشتبہ حملہ آور کم عمر تھے، جن کی لاشیں مسجد کے قریب ہی ایک گاڑی سے ملی ہیں۔
اسلامک سینٹر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ مسجد سان ڈیاگو کاؤنٹی کا سب سے بڑا مرکز ہے جہاں روزانہ سینکڑوں افراد عبادت کے لیے آتے ہیں، جبکہ اسی مرکز میں دینی و تعلیمی سرگرمیاں اور الراشد اسکول بھی قائم ہے۔ حملے کے وقت مسجد میں موجود نمازیوں اور بچوں میں بھگدڑ مچ گئی، تاہم سیکیورٹی پر مامور گارڈ نے حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے جوانمردی سے اپنی جان قربان کر دی۔
مسجد کے امام طحہٰ حسنیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی گارڈ کی قربانی بہادری کی اعلیٰ مثال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حملے کے فوری بعد بچوں کو بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے اللہ کے فضل سے کوئی بڑا سانحہ پیش نہیں آیا۔ پولیس کی جانب سے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔