مکہ دفاعی معاہدہ امن کے خواہاں برادر ممالک کیلئے کھلا ہے,اردوان

مکہ مکرمہ(ویب ڈیسک) ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے فروغ کی جانب اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ ان تمام برادر ممالک کی شمولیت کے لیے کھلا ہے جو خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے خواہاں ہیں۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی پرخلوص دعوت پر مکہ مکرمہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔

رجب طیب اردوان نے کہا کہ ملاقات کے دوران تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ ان کے مطابق اجتماعی دفاعی صلاحیت پر مبنی یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت دفاعی شعبے میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا، جبکہ دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں کے قیام اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر تعاون بھی اس معاہدے کا اہم پہلو ہے، جس سے خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

رجب طیب اردوان نے واضح کیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد اجتماعی دفاع، امن اور استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 میں بیان کردہ دفاع کے حق کی بھی توثیق کرتا ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کا یہ نیا فریم ورک خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے خواہاں تمام برادر ممالک کے لیے کھلا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترکیہ تنازعات اور بحرانوں کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کے اصولی مؤقف پر بدستور قائم رہے گا۔

رجب طیب اردوان نے دعا کی کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پورے خطے کے لیے خیر، برکت، امن اور استحکام کا ذریعہ ثابت ہو اور تینوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون آنے والے دنوں میں مزید مضبوط ہو۔

دوسری جانب سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے بھی پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے علاقائی امن اور استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ سعودی عرب کے مضبوط اور دیرینہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار ہے۔

فیصل بن فرحان نے مکہ معاہدے کو پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون میں ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ خطے میں امن اور استحکام کے تحفظ کے لیے تینوں ممالک کے مشترکہ سیاسی عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون خطے میں امن کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا اور اس کے مثبت اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت تینوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا، دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے