کروڑوں کا بیوٹیفکیشن منصوبہ مبینہ بے ضابطگیوں کی زد میں، ناقص میٹریل پر انکوائری دو ہفتے بعد بھی التوا کا شکار

رینالہ خورد (نامہ نگار): رینالہ خورد میں کروڑوں روپے کی لاگت سے جاری بیوٹیفکیشن منصوبہ سست روی کا شکار ہے، جبکہ تعمیراتی کاموں میں مبینہ ناقص میٹریل کے استعمال اور ورک آرڈر سے ہٹ کر کام کیے جانے کے الزامات پر دائر درخواست کی انکوائری بھی دو ہفتے گزرنے کے باوجود پیش رفت نہ کرسکی۔

تفصیلات کے مطابق کئی ماہ قبل نہر لوئر باری دوآب کے پل سے اقبال بازار، صدر بازار، پھاٹک بازار اور شیرگڑھ روڈ تک مختلف مقامات پر بیوٹیفکیشن کے تعمیراتی کام شروع کیے گئے تھے۔ منصوبے کے تحت بازاروں میں رنگین ٹف ٹائلز کی تنصیب، سڑکوں کے دونوں اطراف ڈرین کی تعمیر اور عمارتوں کے فرنٹ پر رنگ و روغن سمیت دیگر کام شامل تھے۔

کام کے آغاز کے بعد شہریوں نے تعمیراتی کاموں میں مبینہ ناقص میٹریل کے استعمال اور ورک آرڈر سے ہٹ کر بعض کام کیے جانے پر سوالات اٹھائے۔ شہریوں طارق نوید اختر، لیاقت چودھری، شیخ عادل اور نعمان چودھری سمیت دیگر افراد نے بھی منصوبے کے معیار اور رفتار پر تحفظات کا اظہار کیا۔

مقامی سینئر صحافی شہباز جاوید نے بھی تقریباً دو ہفتے قبل تعمیراتی کاموں میں سست روی اور مبینہ ناقص میٹریل کے استعمال کے حوالے سے انکوائری کے لیے درخواست جمع کرائی تھی، تاہم درخواست پر تاحال خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ تعمیراتی منصوبے کی رفتار اور شکایت پر انکوائری میں مبینہ تاخیر سے مختلف سوالات جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، کمشنر ساہیوال، ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ اور اسسٹنٹ کمشنر رینالہ خورد سے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کے معیار، ورک آرڈر کے مطابق کام اور مبینہ بے ضابطگیوں کی شفاف انکوائری کرائی جائے اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے