وزارت داخلہ کا اہم فیصلہ: اسلام آباد و پنجاب میں رینجرز کو مکمل اختیارات کے ساتھ تعینات کر دیا گیا

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وفاقی وزارت داخلہ نے چیف کمشنر اسلام آباد اور حکومتِ پنجاب کی درخواست پر اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں پاکستان رینجرز کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے ساتھ رینجرز کو قانونی اختیارات کے تحت پولیس اور متعلقہ اداروں کو مکمل سکیورٹی معاونت فراہم کرنے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق رینجرز کی تعیناتی پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959 کی دفعات 7(ب) اور 10 کے ساتھ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعات 4 اور 5 کے تحت کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ انتشاری عناصر یا مسلح جتھوں کے کسی بھی حملے کی صورت میں رینجرز اور پولیس مناسب اور ضروری جوابی کارروائی کر سکیں گے۔ اسی طرح کسی بھی پرتشدد سرگرمی یا خطرے سے نمٹنے کے لیے دونوں فورسز مکمل اقدامات اٹھا سکتی ہیں۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تعینات رینجرز اہلکار امن و امان برقرار رکھنے اور سکیورٹی معاونت کے لیے تمام ضروری ذمہ داریاں سرانجام دیں گے۔ یہ اقدام صوبائی اور وفاقی سطح پر امن و امان کی صورتحال کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے کی غرض سے کیا گیا ہے۔

حکومتِ پنجاب کی جانب سے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کے دستوں کی تعیناتی کی درخواست کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق راولپنڈی میں تین کمپنیاں، اٹک میں پانچ ونگز جبکہ جہلم اور میانوالی میں ایک ایک کمپنی تعینات کی جائے گی۔ یہ دستے پانچ اکتوبر 2026 تک تعینات رہیں گے۔ اسلام آباد میں بھی چیف کمشنر کی درخواست پر سکیورٹی انتظامات مزید مضبوط کرنے کے لیے رینجرز کو قانونی اختیارات کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ ان دنوں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی سرگرمیوں اور متوقع احتجاجی مظاہروں کے پیشِ نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ وزارت داخلہ کے احکامات کے تحت رینجرز اور پولیس کو کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے بروقت نمٹنے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا تاکہ عوامی امن و امان متاثر نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے