میہڑ (کیو این این ورلڈ/رپورٹ: منظور علی جوئیہ) میہڑ کے سیندھل مہیسر محلے سے چھ روز قبل لاپتہ ہونے والی پرائمری سکول کی چھ سالہ معصوم بچی اجالا پروین سولنگی کا تاحال کوئی سراغ نہ مل سکا، جس پر اہل خانہ اور شہری شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔
بچی کے اغوا کا مقدمہ درج ہونے اور ایس ایس پی دادو کی جانب سے جے آئی ٹی تشکیل دیے جانے کے باوجود تاحال کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آ سکی، جس پر ورثاء میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
بچی کی بازیابی کے لیے اس کے والد شمس الدین سولنگی، شہری اتحاد کے چیئرمین نیاز علی برڑو، عابد کلہوڑو، سرفراز سولنگی اور مولوی محمد نواز سولنگی کی قیادت میں ورثاء، سول سوسائٹی اور شہریوں سمیت سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں اغوا شدہ بچی کی تصاویر اور پمفلٹس اٹھا رکھے تھے اور شہر کی سڑکوں پر تقریباً تین کلو میٹر تک پیدل مارچ کیا۔ اس دوران انہوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ بچی کو فوری بازیاب کر کے ورثاء کے حوالے کیا جائے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر جلد از جلد بچی کو بازیاب نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔