نظم ’’گدڑی کا لال‘‘ غربت، نسوانی وقار اور معاشرتی بے حسی کی دردناک داستان
تبصرہ نگار: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
معروف درویش منش شاعر عبداللہ راہی مرحوم کی نظم ’’گدڑی کا لال‘‘ اردو شاعری کا ایک ایسا درد انگیز اور فکر افروز نمونہ ہے جس میں غربت کی اذیت، عورت کی بے بسی، معاشرتی منافقت اور انسانی عزتِ نفس کے تحفظ جیسے اہم موضوعات کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ نظم محض ایک غریب ماں اور اس کی بیٹی کی گفتگو نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے اس تلخ چہرے کی عکاسی ہے جہاں بظاہر ہمدردی کے پردے میں چھپی خود غرضی، ضرورت مند انسانوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے۔
نظم کا مرکزی کردار ایک نوجوان لڑکی ہے جو اپنی ماں کے ساتھ شہر جا کر لوگوں سے خیرات مانگنے پر آمادہ نہیں۔ اس کا انکار محض غربت سے فرار یا بھیک مانگنے سے گریز کا اظہار نہیں بلکہ اپنی عزتِ نفس، نسوانی وقار اور خودداری کے تحفظ کا اعلان ہے۔ وہ اپنی ماں کو سمجھاتی ہے کہ راہ گیروں کو روک لینے والی اس کی صدا اور بظاہر خیرات دینے والے ہاتھوں کے پیچھے ہر مرتبہ نیک نیتی موجود نہیں ہوتی۔ شاعر نے اس حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا ہے:
’’میں سمجھتی ہوں یہ سکے نہیں انگارے ہیں
آنچ میں جن کے میری روح جلا کرتی ہے‘‘
یہ اشعار نظم کے فکری اور جذباتی مرکز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں سکے محض زر و مال کی علامت نہیں بلکہ اس خیرات کی علامت ہیں جو لینے والے کے دل میں احساسِ ذلت، بے بسی اور اذیت پیدا کرتی ہے۔ شاعر نے چند سکوں کو انگاروں سے تشبیہ دے کر یہ واضح کیا ہے کہ ہر مالی مدد انسان کے لیے راحت کا باعث نہیں بنتی؛ بعض اوقات مدد کے نام پر دیا جانے والا مال بھی روح کو زخمی کر دیتا ہے۔
نظم کا ایک اہم پہلو معاشرتی منافقت کی نشان دہی ہے۔ لڑکی کو احساس ہے کہ شہر کے تمام لوگ بے لوث نہیں ہوتے اور بعض افراد کی خیرات کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی ذاتی غرض چھپی ہوتی ہے۔ شاعر نے ان لوگوں کی ذہنیت کو بے نقاب کیا ہے جو کسی مجبور عورت کی مدد کے نام پر دراصل اس کی مجبوری، جوانی اور بے بسی کا تماشا دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نظم محض غربت کی تصویر کشی سے آگے بڑھ کر سماجی رویوں پر ایک بامعنی تنقید بن جاتی ہے۔
’’آنکھیں ہوتیں تو یہ سوداگری تجھ پر کھلتی
اس بہانے سے نظر مجھ پہ پڑا کرتی ہے‘‘
ان مصرعوں میں لڑکی کی بصیرت اور ماں کی بے خبری کے درمیان ایک نمایاں فرق دکھائی دیتا ہے۔ ماں کے لیے خیرات شاید زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا وسیلہ ہو، لیکن بیٹی اس عمل کے پس پردہ چھپی ہوس، تحقیر اور استحصال کی کیفیت کو محسوس کرتی ہے۔ اس کی نگاہ میں مسئلہ صرف بھوک اور غربت کا نہیں بلکہ اس انسانی رویے کا بھی ہے جو کسی کی مجبوری کو اپنی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔
شاعر نے لڑکی کی نفسیاتی کیفیت کو بھی بڑی سچائی سے پیش کیا ہے۔ راہ گیروں کی نگاہیں، ان کے نازیبا اشارے، مذاق اور بے ہودہ باتیں اس کے لیے شدید ذہنی اذیت کا سبب بنتی ہیں۔ وہ اپنے جذبات کو ضبط کرنے کی کوشش کرتی ہے، مگر بعض دکھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں زیادہ دیر تک چھپایا نہیں جا سکتا:
’’اشک گرتے ہیں تو پلو میں چھپا لیتی ہوں
آہ بھرتی ہوں تو ہونٹوں پہ اٹک جاتی ہے‘‘
یہ اشعار ایک حساس دل کی خاموش چیخ ہیں۔ آنسوؤں کو پلو میں چھپانا اور آہ کو ہونٹوں پر روک لینا اس معاشرتی جبر کی علامت ہے جس میں کمزور انسان کو اپنی تکلیف کا اظہار کرنے کی آزادی بھی میسر نہیں ہوتی۔ لڑکی کا دکھ ذاتی ہونے کے باوجود اجتماعی نوعیت اختیار کر لیتا ہے، کیونکہ اس میں ان تمام بے سہارا خواتین کی آواز شامل ہو جاتی ہے جو غربت اور عدم تحفظ کے باعث روزانہ تحقیر آمیز رویوں کا سامنا کرتی ہیں۔
نظم میں باپ اور بھائی کا ذکر بھی بڑی معنویت رکھتا ہے۔ لڑکی محسوس کرتی ہے کہ اگر باپ زندہ ہوتا تو اسے اپنی نگاہوں میں بسا کر رکھتا اور اگر بھائی موجود ہوتا تو اسے اس قدر بے سہارا زندگی نہ گزارنا پڑتی۔ ان خیالات سے اس کی محرومی اور عدم تحفظ کا احساس نمایاں ہوتا ہے۔ تاہم شاعر نے اس کردار کو محض مظلومیت کی تصویر بنا کر نہیں چھوڑا بلکہ اس کے اندر موجود حوصلے، خود اعتمادی اور عملی جدوجہد کے جذبے کو بھی پوری قوت سے ابھارا ہے۔
’’چکی پیسوں گی میں گھر گھر کا بھروں گی پانی
کپڑے بھی دھوؤں گی اور فصل بھی کٹواؤں گی‘‘
یہاں نظم کا لہجہ احتجاج سے عزم کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ لڑکی ہر طرح کی محنت کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اپنی خودداری کا سودا کرنے پر آمادہ نہیں۔ وہ معاشرے کے سامنے یہ سوال رکھتی ہے کہ کیا ایک غریب عورت کے لیے عزت کے ساتھ زندہ رہنے کے راستے اتنے محدود ہو چکے ہیں کہ اسے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی عزتِ نفس قربان کرنا پڑے؟ اس کا جواب اس کی جدوجہد، محنت اور خود انحصاری کے عزم میں پوشیدہ ہے۔
اس کردار کی عظمت اس بات میں ہے کہ وہ حالات سے شکست کھانے کے بجائے اپنی محنت پر بھروسا کرتی ہے۔ وہ غربت کو اپنی قسمت کا آخری فیصلہ تسلیم نہیں کرتی بلکہ اپنی صلاحیتوں اور مشقت کے ذریعے زندگی گزارنے کا عہد کرتی ہے۔ یوں عبداللہ راہی مرحوم نے ایک ایسی عورت کا کردار تخلیق کیا ہے جو سماجی محرومیوں کے باوجود باوقار زندگی کی خواہش رکھتی ہے اور اپنے بنیادی انسانی حق کے طور پر عزت کو مقدم سمجھتی ہے۔
نظم کے آخری حصے میں لڑکی کا عزم اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ وہ ماں کی عزت کی حفاظت اور اپنی ذات کے وقار کو برقرار رکھنے کا وعدہ کرتے ہوئے کہتی ہے:
’’خاک بن کر تیرے قدموں میں رہوں گی لیکن
ماں تیرے ساتھ میں اب شہر نہیں جاؤں گی‘‘
یہ اختتامی اشعار پوری نظم کا حاصل ہیں۔ ان میں ماں سے محبت، قربانی کا جذبہ، عزتِ نفس اور معاشرتی استحصال کے خلاف مزاحمت یکجا ہو گئے ہیں۔ لڑکی اپنی ماں سے بغاوت نہیں کرتی بلکہ اس کے ساتھ اپنی محبت اور وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے ایک ایسے طرزِ زندگی کو رد کرتی ہے جس میں اس کی شخصیت، وقار اور تحفظ کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔ اس کا انکار دراصل ایک اخلاقی اعلان ہے کہ زندگی کی مشکلات قبول کی جا سکتی ہیں، لیکن انسانی وقار کی قیمت پر نہیں۔
عنوان ’’گدڑی کا لال‘‘ بھی اپنی معنویت رکھتا ہے۔ یہ ترکیب بظاہر ایک قیمتی انسان کی طرف اشارہ کرتی ہے جو ظاہری غربت اور محرومی کے باوجود اپنے باطن میں غیر معمولی عظمت رکھتا ہے۔ نظم کی لڑکی اسی باطنی دولت کی حامل ہے۔ اس کے پاس مادی وسائل نہیں، مگر اس کے کردار میں خودداری، حوصلہ، پاکیزگیِ احساس اور محنت کی عظمت موجود ہے۔ اس اعتبار سے وہ معاشرے کے ان خوش حال مگر اخلاقی طور پر مفلس کرداروں کے مقابل کھڑی دکھائی دیتی ہے جو اپنی ظاہری شرافت کے باوجود دوسروں کی مجبوریوں کا احترام نہیں کرتے۔
فنی اعتبار سے نظم کی سب سے بڑی خوبی اس کا مکالماتی انداز، سادہ مگر اثر انگیز زبان اور جذبات کی تدریجی شدت ہے۔ شاعر نے ایک عام گھریلو صورتِ حال کو وسیع سماجی تناظر عطا کیا ہے۔ نظم میں کہیں درد ہے، کہیں احتجاج، کہیں بے بسی اور کہیں غیر معمولی عزم۔ ان تمام کیفیات کے امتزاج نے اسے محض جذباتی اظہار نہیں رہنے دیا بلکہ معاشرتی شعور کی حامل تخلیق بنا دیا ہے۔
اس نظم کا پیغام آج بھی پوری معنویت کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے۔ غربت کا خاتمہ صرف خیرات تقسیم کرنے سے ممکن نہیں؛ اس کے لیے باعزت روزگار، خواتین کا تحفظ، محنت کی قدر، سماجی ذمہ داری اور انسانی احترام کو فروغ دینا ضروری ہے۔ خیرات اگر احساسِ برتری، تحقیر یا استحصال کا ذریعہ بن جائے تو وہ اپنی اخلاقی روح کھو دیتی ہے۔ حقیقی ہمدردی وہ ہے جو کسی ضرورت مند کی مدد کرتے ہوئے اس کی عزتِ نفس کو مجروح نہ ہونے دے۔
مختصر یہ کہ درویش منش شاعر عبداللہ راہی مرحوم کی نظم ’’گدڑی کا لال‘‘ غربت کے کرب، عورت کے وقار اور معاشرتی منافقت کے خلاف ایک مؤثر شعری احتجاج ہے۔ اس نظم کی اصل قوت اس کردار میں پوشیدہ ہے جو محرومیوں کے باوجود اپنے وقار سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ یہ تخلیق ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کی حقیقی عظمت اس کی دولت میں نہیں بلکہ اس کے کردار، خودداری اور اصولوں پر ثابت قدم رہنے میں ہے۔
نظم: گدڑی کا لال
کتاب ’’جبینِ دل‘‘ تاریخِ اشاعت: 5 مئی 1984ء
ماں تیرے ساتھ میں اب شہر نہیں جاؤں گی
تو سمجھتی ہے کہ بھرائی ہوئی تیری صدا
راہ گیروں کے قدم روک لیا کرتی ہے
اپنے داتاؤں کی نیت کا تجھے ہوش کہاں
جن کی عزت کے لیے دل سے دعا کرتی ہے
میں سمجھتی ہوں یہ سکے نہیں انگارے ہیں
آنچ میں جن کے میری روح جلا کرتی ہے
اتنے بے لوث کہاں شہر کے باسی سارے
ان کی خیرات بھی اک چال ہوا کرتی ہے
آنکھیں ہوتیں تو یہ سوداگری تجھ پر کھلتی
اس بہانے سے نظر مجھ پہ پڑا کرتی ہے
دیکھ کر میری جوانی کو پھٹے کپڑوں میں
تجھ کو کیا علم نظر ان کی بہک جاتی ہے
پاؤں تک سر سے مجھے گھور کے جب دیکھتے ہیں
پھانس سی سینے میں اس وقت کھٹک جاتی ہے
ان کی باتیں، مذاق اور اشارے ان کے
لاکھ برداشت کروں، آنکھ چھلک جاتی ہے
اشک گرتے ہیں تو پلو میں چھپا لیتی ہوں
آہ بھرتی ہوں تو ہونٹوں پہ اٹک جاتی ہے
سنگدل دنیا میں بے آسرا پا کر خود کو
آگ سی میرے دکھی دل میں دہک جاتی ہے
جب میں کم سن تھی تیرے ساتھ چلی جاتی تھی
اب جواں ہو کے گلی کوچے نہیں پھر سکتی
ابا ہوتے تو نگاہوں میں بسا کر رکھتے
بھیا ہوتے تو تردد کی ضرورت کیا تھی
ان پریشان خیالوں میں بہت الجھی ہوں
بے سہارا ہوں، نہیں کوئی تو اللہ والی
اچھی اماں تو مگر اتنی فسردہ کیوں ہے
تیری بے نور نگاہوں میں اداسی کیسی
میرے دامن پہ کوئی داغ نہ لگ پائے گا
تیری عزت پہ کوئی حرف نہ آنے دوں گی
چکی پیسوں گی، میں گھر گھر کا بھروں گی پانی
کپڑے بھی دھوؤں گی اور فصل بھی کٹواؤں گی
اپنی غربت کی قسم، ماں، تیرا بیٹا بن کر
جو بھی مل پایا، مشقت سے کما لاؤں گی
اس ذلالت سے تو مر جانا کہیں بہتر ہے
زہر کھا لوں گی، میں ہاتھ نہ پھیلاؤں گی
جان و دل سے ہے مجھے عزت و توقیر عزیز
موت سے پہلے اس دنیا سے نہ مر پاؤں گی
خاک بن کر تیرے قدموں میں رہوں گی لیکن
ماں تیرے ساتھ میں اب شہر نہیں جاؤں گی
