مسلم لیگ ن کی کامیابیاں اور عوام میں تیزی سے گرتا گراف
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
کسی بھی جمہوری معاشرے میں حکومت کی کامیابی کا اصل پیمانہ بین الاقوامی فورمز پر داد سمیٹنا یا کاغذی اعداد و شمار کی جادوگری نہیں بلکہ عام آدمی کی زندگی میں آنے والی مثبت تبدیلی ہوتی ہے۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں قائم وفاقی اور پنجاب کی صوبائی حکومت ایک عجیب اور ہولناک تضاد (Paradox) کا شکار نظر آتی ہے۔ ایک طرف خارجہ پالیسی اور اسٹریٹجک محاذ پر ایسی کامیابیاں ہیں جنہیں تاریخ سنہری حروف میں لکھ سکتی ہے تو دوسری طرف داخلی سطح پر عوامی مقبولیت کا گراف اس تیزی سے نیچے گرا ہے کہ خود پارٹی کے اندر خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئی ہیں۔ آئیے حقائق اور عوامی جذبات پر مشتمل ایک غیر جانبدارانہ اور گہرائی پرمبنی تجزیاتی جائزہ لیتے ہیں ۔
اگر ہم وفاقی حکومت کی خارجہ اور دفاعی پالیسی پر نظر ڈالیں تو شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے سفارتی تنہائی کا خاتمہ کرنے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔ ستمبر 2025 میں سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) کا انعقاد ایک ایسا سنگِ میل ہے جس نے خطے کی سیکیورٹی سیاست کو بدل کر رکھ دیا۔ چین کے ساتھ سی پیک (CPEC) کے دوسرے مرحلے کا آغاز اور دفاعی تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جانا موجودہ حکومت کا ایک بڑا سفارتی معرکہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی آذربائیجان, لیبیا اور دیگر ممالک کو برآمدات اور ترکی کے ساتھ پانچویں نسل کے جنگی طیارے "کان” (KAAN) کی مشترکہ پروڈکشن نے پاکستان کی دفاعی صنعت کو عالمی سطح پر معتبر بنایا ہے۔ روس کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون اور ایران-امریکہ تنازع میں پاکستان کا بطور ثالث کردار یہ ثابت کرتا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔
اسی طرح اگر پنجاب کی بات کی جائے تو وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی صوبائی حکومت نے اپنے دورِ اقتدار میں تشہیر اور بلند بانگ دعوؤں کی سیاست کو عروج پر پہنچایا۔ "ستھرا پنجاب” مہم، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اصلاحات کے دعوے، غریبوں کے لیے ہاؤسنگ سکیمیں، خواتین کو بااختیار بنانے کے پروگرامز اور سرکاری خریداری میں شفافیت لانے کے لیے ای-پروکیورمنٹ جیسے اقدامات کو میڈیا پر حکومت کی بڑی کامیابیوں کے طور پر پیش کیا گیا۔ ان اقدامات نے یقیناً ایک خاص طبقے میں مثبت تاثر پیدا کیا اور یہ دکھانے کی کوشش کی گئی کہ پنجاب میں گورننس کا ماڈل بدل رہا ہے۔ یہ تمام کامیابیاں دیکھنے، لکھنے اور پڑھنے میں بہت خوبصورت ہیں اور عالمی ادارے بھی ان کا اعتراف کر رہے ہیں مگر یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال جنم لیتا ہے کہ ان تمام بین الاقوامی اور صوبائی کامیابیوں سے پاکستان کے عام آدمی کو کیا ملا؟
حقیقت یہ ہے کہ ان تمام دفاعی معاہدوں، سی پیک کی بحالی اور علاقائی اتحادوں کے باوجود مسلم لیگ (ن) کا روایتی ووٹ بینک برف کی طرح پگھل رہا ہے۔ پاکستانی عوام کے اندر ایک ایسا لاوا پک رہا ہے جو موجودہ حکمران جماعت کے سیاسی مستقبل کو ہمیشہ کے لیے دفن کر سکتا ہے۔ حالیہ مہنگائی، پٹرول اور ڈیزل کی بے تحاشہ قیمتوں میں مسلسل اضافہ، بجلی کے کمر توڑ بل اور روزمرہ زندگی کی اشیاء کا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جانا وہ عوامل ہیں جنہوں نے عوام کو نڈھال کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی پالیسیوں کو عوامی حلقوں میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں عوام کش قرار دیا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف (IMF) کی سخت ترین شرائط پر من و عن عملدرآمد، دکھاوے کی عارضی سبسڈیز اور غریب عوام پر ناجائز ٹیکسوں کی بھرمار نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔
پٹرول کی قیمتیں قومی سطح پر 415 روپے فی لیٹر کے درمیان ہیں، جس نے ٹرانسپورٹیشن سے لے کر سبزی اور آٹے تک ہر چیز کو آگ لگا دی ہے۔ پنجاب جسے مسلم لیگ (ن) کا مضبوط ترین سیاسی گڑھ اور پاور ہاؤس سمجھا جاتا تھا، آج وہاں کے عوام سب سے زیادہ ذلت اور معاشی پسپائی کا شکار ہیں۔ پنجاب کے عوام سب سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں لیکن بدلے میں انہیں بجلی کے بھاری بلوں اور ناجائز ٹیکسوں کی صورت میں سزا دی جا رہی ہے۔ دوسری طرف بلوچستان میں یہی ایرانی پٹرول 200 روپے سے بھی کم قیمت میں دستیاب ہے، جس کی وجہ سے پیدا ہونے والی علاقائی عدم مساوات نے پنجاب کے عوام میں شدید مایوسی کو جنم دیا ہے۔ پنجاب کا عام آدمی اب یہ محسوس کرنے لگا ہے کہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں اور معاشی ناہمواریوں کا سب سے زیادہ نشانہ اسی کو بنایا جا رہا ہے اور یہ صورتحال عوامی سطح پر شدید غم و غصے کا باعث بن رہی ہے۔
حکومت دن رات معاشی بحالی، سی پیک اور دفاعی برآمدات کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے مگر ایک عام آدمی جس کا بچہ بھوک سے نڈھال ہے اور اس کے لیے تعلیم کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو چکے ہیں، علاج کے لیے پیسے نہ ہونے سے اس کے بچے تڑپ تڑپ کر مر رہے ہیں، اسے ان بڑی اصطلاحات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ عام آدمی کے لیے روٹی، بجلی، پٹرول اور دوا کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، "خفیہ نیوکلیئر امبریلا” جیسی اسٹریٹجک قیاس آرائیاں اور دوست ممالک کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی پوشیدہ تفصیلات حکومت کی شفافیت پر بڑے سوالات کھڑے کر رہی ہیں۔ عوام یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کی معیشت اور خودمختاری کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا گیا ہے اور معاشی بحالی کی رفتار اتنی سست ہے کہ عام آدمی کو اس سرنگ کے دوسرے کنارے پر کوئی روشنی نظر نہیں آ رہی۔
اب صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ نوشتہ دیوار بالکل صاف نظر آ رہا ہے۔ اگر آج ملک میں صاف، شفاف اور غیر جانبدارانہ عام انتخابات کا اعلان ہو جائے تو مسلم لیگ (ن) کے لیے پنجاب جیسے صوبے سے بھی چند سیٹیں نکالنا محال ہو جائے گا۔ حالیہ غیر سرکاری سروے اور عوامی رائے عامہ کے جائزے واضح طور پر ظاہر کر رہے ہیں کہ مہنگائی اور بدترین گورننس نے ن لیگ کا گراف تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں میں پارٹی کے روایتی ووٹ بینک میں گہری دراڑیں پڑ چکی ہیں اور ن لیگ کا ووٹر اب مایوسی کا شکار ہو کر متبادل قیادت کی طرف دیکھ رہا ہے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ خارجہ اور دفاعی کامیابیاں قومی فخر کا باعث ضرور بنتی ہیں، لیکن جب تک ان کامیابیوں کا اثر عام آدمی کی جیب اور اس کے کچن تک نہیں پہنچتا، یہ سب کاغذی کارروائی معلوم ہوتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بھوکے پیٹ پر قوم پرستی کی عمارت دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔ مسلم لیگ (ن) کو اگر ملک میں اپنی روایتی سیاست کو زندہ رکھنا ہے تو اسے فوری طور پر اپنی ترجیحات کو تبدیل کرنا ہوگا اور بیوروکریٹک طرزِ حکومت کے بجائے عوامی مفادات کو مقدم رکھنا ہوگا۔
آخر میں ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ خارجہ محاذ پر دفاعی اور سفارتی فتوحات اپنی جگہ اہم سہی، لیکن داخلی سطح پر معاشی تباہی کے سامنے یہ سب بے معنی ہو جاتی ہیں۔ اس وقت حکومت کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ عوامی غیظ و غضب کو ٹھنڈا کرنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کرے۔ وفاقی وزیر اویس لغاری سمیت پٹرولیم اور توانائی کی پالیسیوں کے ذمہ دار وزراء کی تبدیلی اب وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہے۔ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے سامنے لکیر کے فقیر بننے کے بجائے حکومت کو اپنے شاہانہ اخراجات کم کرنے ہوں گے اور غریب کو پیسنے کے بجائے اشرافیہ پر ٹیکس لگا کر عوام کو حقیقی ریلیف دینا ہوگا۔ اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو عوام کے اندر پکنے والا یہ معاشی لاوا کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے جو نہ صرف مسلم لیگ (ن) کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے بہا لے جائے گا بلکہ ملک میں شدید سیاسی و سماجی انتشار کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ سیاست ایک زندہ اور متحرک عمل ہے جہاں فیصلے کاغذی کامیابیوں پر نہیں بلکہ عوام کی عدالت میں ہوتے ہیں اور اس عدالت میں ن لیگ اس وقت بری طرح ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ وقت ریت کی طرح ہاتھ سے تیزی سے نکل رہا ہے، وقت گواہ ہے کہ اقتدار کے محلات عارضی اور مٹ جانے والے ہوتے ہیں، اصل بقا عوام کے دلوں پر راج کرنے میں ہے۔ اب یہ ن لیگ کی قیادت پر منحصر ہے کہ وہ محلوں کی چکا چوند چنتی ہے یا عوام کے دلوں کی دھڑکن بنتی ہے۔
