افغان سرحدی کشیدگی؛ 8 ماہ سے پھنسی 1600 پاکستانی گاڑیاں مرحلہ وار واپس آئیں گی

خیبر (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار ) پاک افغان سرحدی کشیدگی کے باعث گزشتہ آٹھ ماہ سے افغانستان میں پھنسے پاکستانی گاڑیوں کے مالکان اور ٹرانسپورٹرز کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں باہمی مشاورت اور جرگے کے نتیجے میں 11 جون سے طورخم بارڈر کے راستے ان گاڑیوں کی مرحلہ وار وطن واپسی کی اجازت دے دی گئی ہے۔

اس سلسلے میں کمشنر پشاور ریاض محسود کی نگرانی میں ان کے دفتر میں ایک اہم جرگہ منعقد ہوا جس میں لنڈی کوتل کے مشران ملک تاج الدین شینواری، ملک عالم شیر، مفتی اعجاز شینواری، ٹرانسپورٹرز رہنما رحمان زیب، طورخم کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر مجیب شینواری اور تاجر برادری کے نمائندوں سمیت دونوں ممالک کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

جرگے کے دوران افغانستان میں پھنسے پاکستانی گاڑیوں کی واپسی کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا اور باہمی اتفاقِ رائے سے ایک قابلِ عمل طریقہ کار طے کیا گیا۔

فیصلے کے مطابق 11 جون سے روزانہ صبح کے اوقات سے دوپہر 2 بجے تک افغانستان میں موجود پاکستانی گاڑیوں کو مرحلہ وار اور ترتیب کے ساتھ طورخم بارڈر کراس کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ دوپہر 2 بجے کے بعد افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا عمل معمول کے مطابق جاری رہے گا۔

مقامی مشران اور ٹرانسپورٹرز نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے تجارتی سرگرمیوں کی بحالی اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے، اور امید ظاہر کی ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف ٹرانسپورٹرز کو درپیش مشکلات میں کمی آئے گی بلکہ سرحدی تجارت کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔

جرگہ کے شرکاء نے دونوں ممالک کے حکام کے تعاون کو سراہتے ہوئے مستقبل میں بھی ایسے مسائل کو مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔

واضح رہے کہ طورخم بارڈر گزشتہ سال 12 اکتوبر 2025 سے عام مسافروں اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند ہے جس کی وجہ سے 1600 سے زائد پاکستانی ٹرانسپورٹرز اور گاڑیاں افغانستان میں پھنسی ہوئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے