بچوں سے ملاقات کا تنازع، نوشین افتخار کی درخواست پر سماعت ملتوی

سیالکوٹ(کیو این این ورلڈ/ڈسٹرکٹ رپورٹر حسنین راجا)مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی نوشین افتخار اور ان کے سابق شوہر سید مرتضیٰ امین کے درمیان بچوں سے ملاقات کے معاملے پر قانونی تنازع لاہور ہائیکورٹ پہنچ گیا، جہاں عدالت نے فی الحال ایپلٹ کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ ملاقات کے شیڈول کو برقرار رکھتے ہوئے مزید سماعت عدالتی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔

لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس ملک اویس خالد نے نوشین افتخار کی جانب سے بچوں سے ملاقات کے شیڈول میں تبدیلی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران نوشین افتخار اپنے وکیل راجہ خرم شہزاد کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں جبکہ ان کے سابق شوہر سید مرتضیٰ امین بھی عدالت کے روبرو موجود تھے۔ ان کی جانب سے ایڈووکیٹ عرفان تاڑڑ نے دلائل پیش کیے۔

درخواست گزار نوشین افتخار نے ایپلٹ کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے جس کے تحت انہیں ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں بچوں سے ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔ ان کے وکیل نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ مقرر کردہ شیڈول غیر منصفانہ ہے اور اس میں نظرثانی کی ضرورت ہے۔

وکیلِ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران نوشین افتخار کو کم از کم پندرہ روز تک بچوں سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ مناسب وقت گزار سکیں۔ تاہم عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد قرار دیا کہ ایپلٹ کورٹ کی جانب سے طے کردہ شیڈول پر ہی عملدرآمد جاری رکھا جائے گا اور کیس کی مزید سماعت عدالتی تعطیلات کے بعد کی جائے گی۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ حتمی فیصلے تک موجودہ انتظام برقرار رہے گا اور فریقین کو عدالتی احکامات کی پابندی کرنا ہوگی۔ آئندہ سماعت میں دونوں جانب سے مزید دلائل سننے کے بعد درخواست کے مختلف قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ نوشین افتخار سابق رکن قومی اسمبلی سید افتخار الحسن کی صاحبزادی ہیں اور قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 سیالکوٹ سے منتخب رکن ہیں۔ انہوں نے اپریل 2021 کے ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کر کے قومی اسمبلی کی نشست جیتی تھی۔ دوسری جانب سید مرتضیٰ امین مذہبی و سماجی حلقوں میں بھی ایک معروف شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

بچوں سے ملاقات کے حق اور سرپرستی سے متعلق یہ معاملہ فی الحال عدالت کے زیرِ سماعت ہے، جس کا حتمی فیصلہ مزید قانونی کارروائی اور دلائل کی روشنی میں کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے