گھوٹکی: (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ضلع گھوٹکی میں مبینہ طور پر متنازع اور قابلِ اعتراض سوشل میڈیا پوسٹس کے معاملے پر پولیس نے کارروائی کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے رجوع کر لیا ہے۔ ایس ایس پی گھوٹکی کی جانب سے اوباڑو کے رہائشی اللہ یار رند اور جروار کے رہائشی خلیل احمد دھایو کے خلاف الگ الگ خطوط ارسال کرتے ہوئے معاملے کی مکمل تحقیقات اور قانونی جائزے کی درخواست کی گئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق دونوں افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسی پوسٹس شیئر کیں جو مبینہ طور پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور معاشرے میں اشتعال یا بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے معاملات نہ صرف حساسیت کے حامل ہوتے ہیں بلکہ امن و امان کی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، اس لیے ان کا غیر جانبدارانہ اور قانونی تقاضوں کے مطابق جائزہ لینا ضروری ہے۔
ایس ایس پی گھوٹکی کی جانب سے این سی سی آئی اے کو ارسال کردہ خطوط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ متعلقہ سوشل میڈیا مواد کا تکنیکی اور قانونی بنیادوں پر تفصیلی معائنہ کیا جائے، اس کے اصل ماخذ، نوعیت اور اثرات کا جائزہ لیا جائے اور تمام دستیاب شواہد کی روشنی میں حقائق کا تعین کیا جائے۔
خطوط میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران یہ ثابت ہو جائے کہ مذکورہ افراد نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو ان کے خلاف پیکا ایکٹ سمیت دیگر قابلِ اطلاق قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ساتھ ہی این سی سی آئی اے سے درخواست کی گئی ہے کہ مکمل جانچ پڑتال کے بعد اپنی تفصیلی رپورٹ ایس ایس پی آفس گھوٹکی کو ارسال کی جائے تاکہ آئندہ قانونی کارروائی قانون کے مطابق آگے بڑھائی جا سکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ایسے معاملات کی حساسیت میں بھی اضافہ ہوا ہے، لہٰذا قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے متحرک ہیں کہ کسی بھی پلیٹ فارم کو نفرت انگیزی، اشتعال انگیزی یا عوامی امن کو متاثر کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
دوسری جانب تاحال اللہ یار رند اور خلیل احمد دھایو کا مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے بھی تحقیقات کا عمل جاری ہے اور ابھی تک کسی فرد کے خلاف حتمی قانونی ذمہ داری یا جرم ثابت نہیں ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے اور شواہد کی جانچ کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ یا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یاد رہے کہ قانون کے مطابق کسی بھی شخص کے خلاف الزامات اس وقت تک محض دعوے تصور کیے جاتے ہیں جب تک تحقیقات مکمل نہ ہو جائیں اور متعلقہ قانونی فورم پر ان کی تصدیق نہ ہو جائے۔

