آم کی گٹھلی اور ہماری ذمہ داری
تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
پاکستان میں ہر سال لاکھوں آم کی گٹھلیاں کھانے کے بعد کچرے میں پھینک دی جاتی ہیں اور پورا سیزن یہی عمل جاری رہتا ہے، حالانکہ انہی گٹھلیوں سے آم کے نئے درخت اگائے جا سکتے ہیں اور ہم بغیر کسی اضافی خرچ کے اپنے ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
آئیے آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے۔
پاکستان کو آموں کا دیس کہا جاتا ہے۔ گرمیوں کا موسم آتے ہی ملک بھر میں آم کی مختلف اقسام بازاروں کی زینت بن جاتی ہیں۔ آم نہ صرف ذائقے کے اعتبار سے پھلوں کا بادشاہ تصور کیا جاتا ہے بلکہ غذائیت اور معاشی اہمیت کے لحاظ سے بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آم کھانے کے بعد اس کی گٹھلی اکثر کوڑے دان کی نذر ہو جاتی ہے، حالانکہ یہی گٹھلی ایک نئے درخت اور سرسبز مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے۔
دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی، درجہ حرارت میں اضافہ اور جنگلات کی کمی ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں ہر فرد کا ایک پودا لگانا بھی ماحول کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ آم کی گٹھلی سے پودا اگانا ایک آسان، کم خرچ اور دلچسپ عمل ہے جو بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے فائدہ مند سرگرمی ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرینِ زراعت کے مطابق آم کی گٹھلی کو اچھی طرح صاف کرنے کے بعد اس کے سخت خول کو احتیاط سے کھول کر اندر موجود بیج نکالا جاتا ہے۔ اس بیج کو نم مٹی والے گملے میں تقریباً ایک انچ گہرائی میں لگایا جائے اور مٹی کو مناسب حد تک نم رکھا جائے۔ اگر گملے کو روشن اور ہوادار جگہ پر رکھا جائے تو چند ہفتوں میں ننھا سا پودا نمودار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ننھا پودا دراصل مستقبل کے ایک تناور درخت کا آغاز ہوتا ہے۔
آم کا درخت صرف پھل ہی نہیں دیتا بلکہ ماحول کو آکسیجن فراہم کرتا، فضائی آلودگی کم کرتا اور پرندوں کے لیے مسکن کا کام بھی کرتا ہے۔ ایک بالغ آم کا درخت کئی دہائیوں تک پھل دیتا رہتا ہے اور آئندہ نسلوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں آم کے باغات مقامی معیشت کو مضبوط بنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں مختلف اداروں اور تنظیموں کی جانب سے "مینگو مانیا ویک” جیسی سرگرمیوں کے ذریعے آم کی اہمیت کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر آم کی اقسام، اس سے تیار ہونے والی غذائیں، کوئزز اور دیگر تفریحی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ آم کی گٹھلی سے پودا اگانے کی ترغیب بھی دی جا رہی ہے۔ یہ ایک مثبت قدم ہے جو لوگوں میں شجرکاری کے رجحان کو فروغ دے سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آم کھانے کے بعد اس کی گٹھلی کو ضائع کرنے کے بجائے اسے ایک نئے پودے میں تبدیل کریں۔ اگر ہر فرد اس موسم میں صرف ایک آم کا پودا لگا دے تو آنے والے برسوں میں ہزاروں نئے درخت ہمارے ماحول کا حصہ بن سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف ماحولیاتی بہتری کا ذریعہ ہوگا بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک قیمتی تحفہ ثابت ہوگا۔
آئیے عہد کریں کہ اس بار آم کی مٹھاس سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی گٹھلی سے ایک نئی زندگی بھی اگائیں گے، کیونکہ آج کا ایک پودا کل کا سایہ دار درخت بن سکتا ہے۔
اسی امید کے ساتھ درخت لگائیں۔ یہ صدقۂ جاریہ بھی ہے اور آنے والی نسلوں کی بقا کا ضامن بھی۔
