واشنگٹن اور تہران کے درمیان تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط، تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار

واشنگٹن (کیو این این ورلڈ): امریکی حکام نے ایک امریکی ویب سائٹ کو بتایا ہے کہ امریکا اور ایران نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر مقررہ وقت سے پہلے ہی دستخط کر دیے ہیں، اور یہ معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے صدور نے اس مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کیے ہیں۔ معاہدے پر ابتدائی طور پر دستخط جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں ہونا طے تھے، تاہم ایک ثالث ملک کے سفارتکار اور دیگر ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان اس عمل کو پہلے مکمل کرنے اور فوری عملدرآمد شروع کرنے پر بات چیت جاری تھی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق اس پیش رفت کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز کو جلد از جلد دوبارہ کھولنا تھا، کیونکہ دونوں فریق اس معاملے پر پہلے ہی اصولی طور پر متفق تھے۔ اسی دوران بعض ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وائٹ ہاؤس پر معاہدے کے متن کو جاری کرنے کے لیے سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو رہا تھا، تاہم ایک ذریعے نے واضح کیا کہ ایران نے شرط رکھی تھی کہ معاہدے کا متن باضابطہ دستخط سے قبل جاری نہ کیا جائے، اور یہ فیصلہ کسی دباؤ کے نتیجے میں نہیں کیا گیا۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے بدھ کے روز بریفنگ کال کے دوران صحافیوں کو معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جس کے بعد کئی روز سے جاری ابہام ختم ہو گیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر نے اس معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کیے، جبکہ اتوار کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی دستاویز پر دستخط کیے۔

اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں مزید مذاکرات اور تعاون کی راہیں کھلنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے