واشنگٹن/تل ابیب: (کیو این این ورلڈ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) پر دستخط کے بعد اسرائیل میں سیاسی اور سفارتی ہلچل مچ گئی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے اتحادی اس معاہدے کو اسرائیل کے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک دھچکا قرار دے رہے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بیشتر ممالک نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔
معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے، ایران پر عائد بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی، ایرانی تیل کی برآمدات کی بحالی اور آئندہ 60 روز کے دوران ایران کے جوہری پروگرام پر مزید مذاکرات کا راستہ ہموار کیا گیا ہے۔ تاہم اسرائیلی قیادت کا مؤقف ہے کہ اس معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، خطے میں اس کے اثر و رسوخ اور حزب اللہ سمیت اتحادی گروپوں کی سرگرمیوں سے متعلق بنیادی خدشات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اگرچہ عوامی سطح پر محتاط خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، لیکن حکومتی حلقوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ نیتن یاہو نے ایران کے خلاف کارروائیوں کے دوران اسرائیلی عوام سے ’’مکمل فتح‘‘ کا وعدہ کیا تھا اور بارہا کہا تھا کہ ایران کی جوہری صلاحیت، میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے پراکسی نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گا، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے معاہدے نے ان اہداف کو عملی طور پر پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔
امریکی اخبار Axios کی رپورٹ کے مطابق معاہدے سے قبل اور بعد میں صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان متعدد کشیدہ رابطے ہوئے۔ ایک موقع پر بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ٹرمپ شدید برہم ہو گئے کیونکہ ان کے مطابق یہ کارروائی جاری سفارتی مذاکرات کو ناکام بنا سکتی تھی۔ ذرائع کے مطابق امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم کے فیصلوں پر سخت ناراضی کا اظہار کیا اور انہیں مذاکرات کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیا۔
ادھر اسرائیل کے سخت گیر وزراء، جن میں بیزلیل سموٹریچ اور اتمار بن گویر شامل ہیں، معاہدے پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سمجھوتہ ایران کو دوبارہ معاشی اور سفارتی طاقت فراہم کرے گا جبکہ اسرائیل کی سلامتی کو درپیش خطرات بدستور برقرار رہیں گے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیلی حکام اس معاہدے کو ’’تباہ کن پسپائی‘‘ قرار دے رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ایران پر برسوں کے دباؤ کے بعد حاصل ہونے والی برتری ضائع ہو سکتی ہے۔ اسرائیلی حلقوں میں یہ خدشہ بھی پایا جاتا ہے کہ پابندیوں میں نرمی کے نتیجے میں ایران اپنی معیشت کو مستحکم کر کے خطے میں اپنا اثر و رسوخ مزید بڑھا سکتا ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسرائیل میں معاہدے کے حوالے سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض حلقے جنگ کے خاتمے اور خطے میں ممکنہ استحکام کو مثبت قرار دے رہے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں سیاسی رہنما اور سکیورٹی ماہرین اسے اسرائیل کے لیے تشویشناک پیش رفت سمجھتے ہیں۔ سابق اسرائیلی سفارتکار مارک ریگیو اور اپوزیشن رہنما یائر لاپید سمیت کئی شخصیات نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کو اقتصادی ریلیف ملنے سے مستقبل میں اسرائیل کے لیے نئے چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔
بی بی سی کے مطابق یہ معاہدہ نیتن یاہو کے لیے سیاسی طور پر ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ اسرائیل میں آئندہ چند ماہ کے دوران متوقع انتخابات کے تناظر میں یہ معاملہ ان کی سیاسی پوزیشن کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔ نیتن یاہو کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے والی حکومت بالآخر اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی حکومت کے ناقد وزراء کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اسرائیل کا سب سے اہم اتحادی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کے سفارتی اقدامات کو کمزور کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ وینس کے مطابق موجودہ معاہدے کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور خطے میں ایک بڑی جنگ کے خطرے کو کم کرنا ہے۔
صدر ٹرمپ نے بھی اپنے حالیہ بیانات میں اس معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے، جوہری مواد کی نگرانی کو یقینی بنانے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے یہ معاہدہ نہ صرف امریکہ بلکہ اسرائیل کے مفاد میں بھی ہے۔ تاہم اسرائیلی قیادت اس مؤقف سے متفق دکھائی نہیں دیتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی ایران ڈیل نے ایک مرتبہ پھر امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں پائے جانے والے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک بدستور قریبی اتحادی ہیں، لیکن ایران کے معاملے پر موجودہ اختلاف رائے آنے والے دنوں میں مزید سیاسی اور سفارتی کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ معاہدہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار آئندہ مذاکرات، ایران کی جانب سے کیے جانے والے وعدوں پر عملدرآمد اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر ہوگا، تاہم فی الوقت یہ واضح ہے کہ اس پیش رفت نے اسرائیلی سیاست، مشرق وسطیٰ کی سفارت کاری اور امریکہ۔اسرائیل تعلقات میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔