ٹرمپ پر تنقید بند کریں، امریکہ کے بغیر اسرائیل کا دفاع ممکن نہ تھا: جے ڈی وینس

ٹرمپ پر تنقید بند کریں، امریکہ کے بغیر اسرائیل کا دفاع ممکن نہ تھا: جے ڈی وینس

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بعض اسرائیلی وزرا کی جانب سے امریکہ-ایران مفاہمتی یادداشت پر تنقید کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنے سب سے بڑے اتحادی امریکہ کے کردار کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ اگر وہ اسرائیلی کابینہ کا حصہ ہوتے تو دنیا میں اپنے واحد اور طاقتور اتحادی کو نشانہ نہ بناتے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران اسرائیل کے دفاع میں استعمال ہونے والے تقریباً دو تہائی ہتھیار امریکہ نے فراہم کیے، جنہیں امریکی ماہرین نے تیار کیا اور امریکی ٹیکس دہندگان نے ان کی مالی معاونت کی۔

امریکی نائب صدر نے اسرائیلی وزرا کے بیانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حیرت ہے کہ بعض اسرائیلی رہنما ایسے امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جو اسرائیل کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی طاقت کی قیادت کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس طرز عمل سے گریز کیا ہے، تاہم وہ ان وزرا کو پیغام دینا چاہتے ہیں جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھیں اور اپنے بیانات میں احتیاط برتیں۔

یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی حکومت کے بعض وزرا نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل اس معاہدے کا فریق نہیں اور نہ ہی وہ ایسے کسی معاہدے کا پابند ہے جو اس کی قومی سلامتی کی ضمانت فراہم نہیں کرتا۔

اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسرائیل کے بعض اقدامات پر ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں۔ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ کسی ایک شخص کو نشانہ بنانے کے لیے پوری عمارت تباہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جے ڈی وینس اور صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بعض پالیسی اختلافات کی نشاندہی کرتے ہیں، جو ایران سے متعلق مفاہمتی یادداشت اور لبنان کی صورتحال کے بعد زیادہ نمایاں ہو گئے ہیں۔ تاہم دونوں ممالک کی قیادت اب بھی اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو برقرار رکھنے پر زور دے رہی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بھی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک نے حالیہ بحرانوں میں شانہ بشانہ کام کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے