مخالف مزاج مشغلوں کی تھکن سے باہر نکلیں!
تحریر: ظفر اقبال ظفر
تھکن کی ایک بڑی وجہ بوریت ہوتی ہے۔ مصدقہ حقیقت ہے کہ جذباتی مشقت کی بجائے تھکن پیدا کرنے میں عام طور پر جذباتی رویے کا زیادہ ہاتھ ہوتا ہے۔ جب آپ اپنے من پسند کام میں مشغول نہ ہوں تو بوریت تھکن پیدا کرتی ہے۔ جب ہم کوئی دلچسپ اور سنسنی خیز کام کر رہے ہوتے ہیں تو تھکاوٹ محسوس نہیں کرتے۔ جیسے میں قدرتی خوبصورتی سے لبریز علاقے میں سرسبز پہاڑوں کے اوپر پڑی برف سے کھیلتا، درختوں سے پھل توڑتا، ٹوکریاں اور پیٹ بھرتا، چشموں کا پانی جسم کے اوپر اور اندر اُتارتا، گھاس کے بیچ میں پھولوں سے باتیں کرتا، ان کی خوشبو کے جواب سنتا، ہواؤں کی لہروں میں گھلی موسیقی سے لطف اندوز ہوتا، لیکن میں آٹھ دس گھنٹوں کی اس مسلسل جدوجہد سے تھکتا کیوں نہیں؟ اس لیے کہ میرے جذبات میں ہلچل مچی ہوتی ہے اور میری رُوح شگفتگی کے احساس سے مخمور ہوتی ہے۔ مجھے زندگی جینے کی ایک اعلیٰ کامیابی کا احساس ہوتا ہے۔
آپ جس فن میں ماہر ہوں، اگر اس میں مداخلت و خلل پیدا کر دیے جائیں تو بنا کام نپٹائے آپ تھکاوٹ سے چور ہو کر بسترِ آرام پر پہنچ جاتے ہیں، اور اگلے روز سازگار ماحول میں آپ گزشتہ دن کی نسبت زیادہ کام کر کے بھی کھلی کلی کی طرح تازہ اور شگفتہ ہوتے ہیں۔ اس دو طرح کے عمل سے گزرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اکثر اوقات کام کی زیادتی نہیں بلکہ پریشانی، تلخی اور انتشار ہمیں تھکا دیتے ہیں۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو وہی کام کرتے ہیں جو ان کی طبیعت کے موافق ہوتا ہے، کیونکہ انہیں زیادہ قوت و خوشی میسر ہوتی ہے اور کم پریشانی اور کم تھکاوٹ۔ جہاں آپ کی دلچسپی ہو، وہیں آپ کی قوت بھی بیدار رہتی ہے۔ ایک جھگڑالو بیوی کے ساتھ دس قدم چلنا، دل نواز محبوبہ کے ساتھ دس میل چلنے کی نسبت زیادہ تھکا دیتا ہے۔
تبدیل شدہ ذہنی رویے کی قوت کا یہ معاملہ میرے لیے ایک بے حد اہم دریافت ہے۔ اس نے معجزے دکھائے ہیں۔ وہ کام جس میں آپ کو دلچسپی ہے، اس کام کو بھی دلچسپ بنا دے گا۔ یہ آپ کی تھکاوٹ، آپ کی جذباتی کشمکشوں اور آپ کی پریشانیوں کو بھی دُور کر دے گا۔ میں نے ایک فیصلہ کیا جس نے میری زندگی کی کایا پلٹ دی، جب میں نے ایک غیر دلچسپ کام کو دلچسپ بنانے کا تہیہ کیا، اور اس عمل میں اپنی ذات، اپنی سوچ، اپنے حالات پر پڑنے والے اثرات کو نوٹ کرتا چلا گیا۔ جب یہ عمل مکمل کر چکا تو اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے اسباق کو مشاہدوں کے صفحات پر حقائق کے قلم سے قلمبند کر کے آپ کے سامنے اس تحریر کی صورت میں پیش کرنے آ گیا۔ اب یہ آپ کا فیصلہ ہے کہ آپ ان ناخوشگوار حالات سے گزر کر اس کو خود پر آزما لیں یا میری کارگزاری پر یقین کرتے ہوئے اپنی زندگی کو تلخیوں سے بچانے کے لیے موافق و دلچسپ راستوں کا انتخاب کر لیں۔ اسی تناظر میں ایک مشورہ مطالعے کے دسترخوان پر رکھے دیتا ہوں، ہو سکتا ہے آپ کا ذہن چکھے تو دل کے معدے میں اتار لے اور آپ صحت مند جینے سے لطف اندوز ہو جائیں۔
جو لوگ بھی دنیا میں ترقی و کامیابی حاصل کرنے کے آرزومند ہیں، وہ ہر روز اپنے بل بوتے پر کام کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے آپ کو نیم خوابی سے بیدار کریں۔ اس سے باہر نکلنے کے لیے جسمانی ورزش سے شروع کرتے ہوئے ذہنی ورزش تک آنا، پھر یہاں سے رُوحانی ورزش تک پہنچنا ہے تاکہ درست سوچنے سمجھنے کے لیے صحت مند دماغی، رُوحانی اور جسمانی قوت کے استعمال سے کامیابی تک پہنچا جائے۔ جب کسی انسان پر ناکامی قبضہ کرتی ہے تو سب سے پہلے اس کی عقل ماری جاتی ہے۔ اس کے سوچنے سمجھنے میں ہر طرف اندھیرے پھیلے ہوتے ہیں اور یوں وہ مایوسی و ناکامی میں جکڑ کر رہ جاتا ہے، جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی عقل سے سارے روشن راستے بھی نکلتے ہیں۔ جیسے قدرت کسی کو نوازنا چاہتی ہے تو اس کی عقل کے در کھول دیتی ہے۔ اس کے سوچنے، سمجھنے اور کرنے کے عمل میں سارے فوائد چھپے ہوتے ہیں، جنہیں وہ پا لیتا ہے۔ اور جیسے قدرت ڈبونا چاہتی ہے، اس کی عقل مار دیتی ہے۔ وہ مفید سوچوں اور عملوں سے دُور ہو جاتا ہے۔ اس نقص کو رُوحانی ورزش سے دُور کیا جاتا ہے۔ ہر روز اپنے آپ سے مستعدی اور استقلال کی مفید گفتگو کیا کریں۔ انسان اپنے آپ کا مخلص دوست بھی ہونا چاہیے۔ کیا ہر روز اپنے آپ سے استقلال کی گفتگو کرنا کوئی سطحی، احمقانہ اور بچگانہ حرکت ہے؟ اس کے برعکس، یہ تو نفسیات کا درست نچوڑ ہے۔ ہمارے خیالات ہی ہماری زندگی کی ترتیب و منازل کا تعین کرتے ہیں۔ روزانہ مخصوص اوقاتِ کار میں اپنے آپ سے گفتگو کر کے جرات، مسرت، قوت، امن و خوشحالی کے خیالات سوچنے سے تنہائی کا خالی پن ہی دُور نہیں ہوتا بلکہ مصروفیات کی عملی تیاری بھی ملتی ہے۔ اپنے آپ کا حوصلہ بن کر رہیں۔ ناکامی و مایوسی کے خیالوں کا راستہ روکنے کے لیے بلند فضاؤں میں پرواز کرتے اور چہچہاتے خیالوں کی موجودگی یقینی بنائے رکھیں۔
مفید قسم کے خیالات سوچنے سے آپ اپنے کام کی ناگواری اور بے لطفی کو کم کر سکتے ہیں۔ اپنے آپ کو یاد دلائیے کہ آپ زندگی سے جو لطف و خوشی حاصل کرتے ہیں، آپ کی دلچسپی اس کی مقدار کو دوگنا کر سکتی ہے، کیونکہ آپ اپنی بیداری کے نصف اوقاتِ کار اپنے کام میں صرف کرتے ہیں۔ یاد رکھیے، اگر آپ کو یہاں سے خوشی نہیں مل رہی تو پھر کہیں نہیں مل سکتی۔ اپنے آپ کو یاد دلائیے کہ اپنے دلچسپ کام میں مصروف رہنے سے آپ کے دماغ سے پریشانیاں ہوا ہو جائیں گی۔ بالآخر آپ کی ترقی، آپ کی دولت میں اضافے کا موجب بنے گی۔ اگر ایسا نہ بھی ہو تو آپ کی تھکاوٹ گھٹ کر کم رہ جائے گی اور لمحات لطف اندوز بن جائیں گے۔ جذباتی رویوں کی تھکن سے بچنے کے لیے موافق مشغلوں میں مصروفِ عمل رہیں۔
