ایران کے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں سمیت 85 اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے

تہران (کیو این این ورلڈ): ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری اور فضائی افواج نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں واقع امریکی فوجی اڈوں سمیت مجموعی طور پر 85 اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کی جانب سے جنگ بندی اور اسلام آباد معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں کی گئی۔

پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے دوران بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، کویت میں قائم علی السالم ایئر بیس اور دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے انتہائی منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے اور ان کا مقصد امریکی فوجی صلاحیتوں کو پیغام دینا تھا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف حالیہ امریکی فضائی حملوں، اقتصادی پابندیوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس کے بعد ایرانی مسلح افواج نے جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ حملے صرف ابتدائی جواب ہیں اور اگر ایران کے خلاف مزید کارروائیاں کی گئیں تو اس سے بھی زیادہ سخت ردعمل دیا جا سکتا ہے۔

ایرانی حکام نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے موقع پر فضائی حملے کر کے نہ صرف بین الاقوامی اصولوں بلکہ طے شدہ مفاہمتی معاہدوں کی بھی خلاف ورزی کی۔ بیان میں کہا گیا کہ ایرانی قوم اور مسلح افواج بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے والی نہیں اور ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب امریکا، بحرین اور کویت کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ حملوں کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات، جانی نقصان یا فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے اثرات کے بارے میں بھی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔

دفاعی اور علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے ان دعوؤں کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ خلیجی خطے میں کشیدگی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی توانائی کی رسد اور بین الاقوامی تجارت پر بھی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے