میہڑ میں امن و امان تباہ، کانسٹیبل پر حملہ اور متعدد ڈکیتیاں

میہڑ (کیو این این ورلڈ/منظور علی جوئیہ کی رپورٹ) میہڑ اور اس کے گردونواح میں ڈاکو بے لگام ہو گئے ہیں، جہاں جرائم پیشہ عناصر نے اب پولیس اہلکاروں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ رادھن تھانے کی حدود میں واقع سیوانی روڈ پر مسلح ڈاکوؤں نے دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک پولیس اہلکار کو لوٹ لیا اور مزاحمت پر اسے شدید زخمی کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق، گاؤں کشو چانڈیو کے رہائشی پولیس کانسٹیبل رجب چانڈیو سیوانی روڈ سے گزر رہے تھے کہ موٹرسائیکل پر سوار 3 نامعلوم مسلح ملزمان نے انہیں اسلحے کے زور پر روک لیا۔ ملزمان نے کانسٹیبل سے نقدی اور موٹرسائیکل چھیننے کی کوشش کی، تاہم مزاحمت کرنے پر ڈاکوؤں نے کانسٹیبل رجب چانڈیو کے سر پر پستول کے بٹ مار کر انہیں لہولہان کر دیا۔

مسلح ملزمان پولیس اہلکار سے موٹرسائیکل اور نقد رقم چھین کر باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ واقعے کے بعد زخمی کانسٹیبل کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے تعلقہ اسپتال میہڑ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

علاقے میں بدامنی کی لہر اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ محض ایک ہی روز کے دوران ڈکیتی کی 15 سے زائد سنگین وارداتیں رپورٹ ہوئی ہیں، جن میں مزاحمت کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ اور تشدد سے 7 دیگر شہری بھی زخمی ہو چکے ہیں۔

میہڑ شہر اور گردونواح کا امن و امان مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جس کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب قانون کے محافظ خود محفوظ نہیں رہے، تو عام عوام کے جان و مال کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا۔ انہوں نے بالا حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے