میہڑ: (کیو این این ورلڈ/منظور علی جوئیہ) تھانہ میہڑ اے سیکشن کی حدود میں تین روز قبل ڈاکوؤں کے حملے میں تین پولیس اہلکاروں کی شہادت کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس کے بعد ایس ایس پی دادو کیپٹن (ر) امیر سعود مگسی کی قیادت میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے تابڑ توڑ کارروائیاں جاری ہیں۔ پولیس نے حملے میں ملوث گینگ کی نشاندہی کر لی ہے اور ملزمان کے ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارنے کے لیے ضلع قمبر شہدادکوٹ تک سرچ آپریشن کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق میہڑ میں ڈاکوؤں کا مقابلہ کرتے ہوئے دادو پولیس کے تین بہادر جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا تھا جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا تھا۔ اس لرزہ خیز واقعے کا مقدمہ قاضی عارف پولیس چوکی کے انچارج سکندر علی بھرگڑی کی مدعیت میں تھانہ میہڑ میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر نمبر 54/2026 میں قتل، اقدامِ قتل، ڈکیتی اور دہشت گردی سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت 11 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایس ایس پی دادو کی زیرِ نگرانی پولیس ٹیموں نے میہڑ کے مختلف علاقوں سمیت گاجی کھہاوڑ، وارھ اور نصیر آباد میں درجنوں مکانات اور مشکوک مقامات کی تلاشی لی، جس کے دوران 15 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ آپریشن کے دوران ملزمان کے ممکنہ ٹھکانوں کو بھی مسمار کیا گیا ہے۔ ایس ایس پی امیر سعود مگسی کا کہنا ہے کہ آئی جی سندھ کی ہدایات پر ڈی آئی جی حیدرآباد خود اس آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں اور جب تک شہداء کے قاتل اور ان کے سہولت کار اپنے انجام کو نہیں پہنچتے، پولیس چین سے نہیں بیٹھے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You missed

میہڑ (کیو این این ورلڈ/رپورٹ: منظور علی جوئیہ) میہڑ کے سیندھل مہیسر محلے سے چھ روز قبل لاپتہ ہونے والی پرائمری سکول کی چھ سالہ معصوم بچی اجالا پروین سولنگی کا تاحال کوئی سراغ نہ مل سکا، جس پر اہل خانہ اور شہری شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ بچی کے اغوا کا مقدمہ درج ہونے اور ایس ایس پی دادو کی جانب سے جے آئی ٹی تشکیل دیے جانے کے باوجود تاحال کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آ سکی، جس پر ورثاء میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ بچی کی بازیابی کے لیے اس کے والد شمس الدین سولنگی، شہری اتحاد کے چیئرمین نیاز علی برڑو، عابد کلہوڑو، سرفراز سولنگی اور مولوی محمد نواز سولنگی کی قیادت میں ورثاء، سول سوسائٹی اور شہریوں سمیت سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں اغوا شدہ بچی کی تصاویر اور پمفلٹس اٹھا رکھے تھے اور شہر کی سڑکوں پر تقریباً تین کلو میٹر تک پیدل مارچ کیا۔ اس دوران انہوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ بچی کو فوری بازیاب کر کے ورثاء کے حوالے کیا جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر جلد از جلد بچی کو بازیاب نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔