لنڈی کوتل (کیو این این ورلڈ): ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے علاقے نیکی خیل میں زمین اور متنازع اراضی پر درخت کاٹنے کے تنازع نے خونریز تصادم کی شکل اختیار کر لی، جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق جبکہ 9 افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق نیکی خیل میں زمین کی ملکیت اور حدود کے تنازع پر دو فریقوں کے درمیان کافی عرصے سے کشیدگی چلی آ رہی تھی۔ ہفتہ کے روز تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایک فریق متنازع زمین پر موجود درخت کاٹ رہا تھا۔ دوسرے فریق نے اس اقدام پر اعتراض کیا جس کے بعد دونوں جانب تلخ کلامی شروع ہو گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق معمولی تکرار چند ہی لمحوں میں سنگین جھگڑے میں تبدیل ہو گئی اور دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا جس کے نتیجے میں 4 افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ 9 افراد زخمی ہو گئے۔ شدید فائرنگ کے باعث علاقے میں بھگدڑ مچ گئی اور شہری اپنی جان بچانے کے لیے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور مقامی افراد جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال لنڈی کوتل منتقل کیا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث انہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد مزید علاج کے لیے پشاور کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔
دوسری جانب واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور مزید کشیدگی یا کسی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی۔ سکیورٹی اداروں نے علاقے میں گشت بڑھا دیا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور فائرنگ میں ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق قانون کو ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مقامی ذرائع کے مطابق نیکی خیل میں زمین کے تنازع پر دونوں فریقوں کے درمیان ماضی میں بھی کئی بار کشیدگی پیدا ہو چکی ہے، تاہم اس مرتبہ متنازع اراضی پر درخت کاٹنے کے معاملے نے تنازع کو خطرناک حد تک بڑھا دیا اور نتیجتاً قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔
واقعے کے بعد علاقے میں سوگ اور خوف کی فضا قائم ہے جبکہ مقامی عمائدین اور سماجی حلقوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ زمین کے دیرینہ تنازعات کے مستقل حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔