لاہور (کیو این این ورلڈ/طارق نوید سندھوں کی رپورٹ ) لاہور کے علاقے کاہنہ میں آلو والا روڈ پر قربان اسکول کے قریب قائم ایک نجی ٹیوشن سینٹر میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں جاں بحق بچوں کی تعداد 15 ہو گئی، جبکہ 4 بچے زیر علاج ہیں جن کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے کے وقت ایک خاتون ٹیچر سمیت تقریباً 20 سے 25 بچے ٹیوشن سینٹر میں موجود تھے۔ شام 4 بج کر 45 منٹ پر واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد ریسکیو 1122، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ ملبے تلے دبے بچوں کو نکال کر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طور پر 14 بچوں کے جاں بحق اور 5 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی، تاہم بعد ازاں زخمی بچوں میں سے ایک بچہ یا بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، جس کے بعد جاں بحق بچوں کی تعداد 15 ہو گئی، جبکہ 4 بچے زیر علاج ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق دو بچوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج بھی کر دیا گیا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق بچے معمول کے مطابق اکیڈمی میں ٹیوشن پڑھنے آئے ہوئے تھے کہ اچانک کمرے کی چھت گر گئی۔ پولیس کے مطابق ٹیوشن سینٹر کی بالائی منزل پر تعمیراتی کام جاری تھا، جبکہ گراؤنڈ فلور پر بچے زیر تعلیم تھے۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد پولیس نے ٹیوشن سینٹر چلانے والے 5 افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ حادثے کی اصل وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ایس پی ماڈل ٹاؤن، ڈی ایس پی کاہنہ، ایس ایچ او کاہنہ اور دیگر تفتیشی افسران موقع پر پہنچ گئے اور شواہد اکٹھے کرتے ہوئے انکوائری کا آغاز کر دیا۔
دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق بچوں کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لیے صبرِ جمیل اور زخمی بچوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو زخمیوں کو ہر ممکن بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیا۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ متعلقہ گھر میں ٹیوشن سینٹر قائم کیا گیا تھا اور بظاہر خستہ حال عمارت کو بچوں کو پڑھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، جبکہ اس کی مناسب مرمت یا مضبوطی پر توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پہلی ترجیح ملبے تلے دبے بچوں کو بحفاظت نکالنا اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنا تھی، جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
حادثے کے بعد پورے علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی، جاں بحق بچوں کے والدین اور اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں، جبکہ شہری حلقوں نے واقعے کی شفاف تحقیقات، غیر محفوظ عمارتوں کے خلاف مؤثر کارروائی اور تعلیمی مراکز میں حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔