امریکی ناکہ بندی خاتمے سے مشروط، ایران کا اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کا اشارہ

نیویارک/تہران (کیو این این ورلڈ) اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایراوانی نے واضح کیا ہے کہ ایران اسلام آباد میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں اسی صورت شرکت کرے گا جب امریکا آبنائے ہرمز میں عائد بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔

اپنے بیان میں ایرانی سفیر نے کہا کہ تہران کو ایسے اشارے موصول ہوئے ہیں کہ امریکا ممکنہ طور پر ناکہ بندی ختم کرنے پر غور کر رہا ہے، تاہم ایران نے اپنی شرکت کو واضح طور پر اسی شرط سے مشروط کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ مذاکرات کی بحالی کے لیے بنیادی شرط ہے۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ناکہ بندی کے نفاذ کے بعد ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے کم از کم 28 جہازوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے بعض بحری جہاز امریکی ناکہ بندی کو توڑتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے مستقبل کا اہم ترین نکتہ بن چکی ہے، اور ناکہ بندی کا خاتمہ ہی کسی بھی ممکنہ پیش رفت کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے