تہران (کیو این این ورلڈ) ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے عندیہ دیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان آئندہ دنوں میں جنگ بندی میں توسیع سمیت ایک ابتدائی معاہدہ طے پانے کا امکان ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اب بھی کئی اہم اختلافات موجود ہیں جن کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات درکار ہیں۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق ان اختلافات میں جوہری پروگرام سے متعلق امور سرفہرست ہیں، جن پر تفصیلی بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ ابتدائی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی جانب ایک اہم قدم ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے پابندیاں ختم کرنے اور جنگی نقصانات کے ازالے سے متعلق مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کے مطالبات کو تسلیم کیا جاتا ہے تو ایران عالمی برادری کو اپنے جوہری پروگرام کی پرامن نوعیت کے بارے میں یقین دہانی کرانے کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا انحصار امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی شرائط پر عملدرآمد سے مشروط ہوگا۔
یاد رہے کہ لبنان میں حالیہ جنگ بندی کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو تجارتی بحری آمد و رفت کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی کے تسلسل کے دوران آبنائے ہرمز سے تمام تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت بحال رکھی جائے گی۔
دوسری جانب ایرانی فوجی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس سہولت کا اطلاق صرف تجارتی جہازوں پر ہوگا جبکہ فوجی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکیورٹی خدشات بدستور برقرار ہیں۔