آزاد کشمیر کی کالعدم ایکشن کمیٹی کو بیرونِ ملک سے مالی و تنظیمی معاونت ملنے کے شواہد کا دعویٰ

آزاد کشمیر کی کالعدم ایکشن کمیٹی کو بیرونِ ملک سے مالی و تنظیمی معاونت ملنے کے شواہد کا دعویٰ
اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) تفصیلات کے مطابق حکومت کو پیش کی گئی ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں بجلی اور آٹے کی قیمتوں کے خلاف شروع ہونے والی کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک بعد ازاں ایک ایسی مہم میں تبدیل ہوگئی جس کا مقصد پاکستان کے کشمیر سے متعلق مؤقف کو کمزور کرنا اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا تھا۔

رپورٹ کے مطابق دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں سمیت بیرونی عناصر نے بالخصوص برطانیہ اور یورپ میں موجود نیٹ ورکس کے ذریعے کمیٹی کو مبینہ طور پر مالی، تشہیری اور تنظیمی معاونت فراہم کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحریک نے بعد میں سماجی و معاشی مطالبات سے آگے بڑھ کر سیاسی نوعیت اختیار کر لی اور آزاد کشمیر کے آئینی ڈھانچے سے متعلق مطالبات بھی سامنے آئے۔

انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مئی 2024 اور ستمبر تا اکتوبر 2025 کے احتجاجی مظاہروں کے دوران پرتشدد واقعات میں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ بعد میں ہونے والے معاہدے کی متعدد شقوں پر عمل درآمد کے باوجود ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات تبدیل کر دیے۔

رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ لندن، جنیوا اور یورپی پارلیمنٹ سمیت مختلف مقامات پر احتجاج، سوشل میڈیا مہمات اور بین الاقوامی میڈیا سے رابطوں کے ذریعے اس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس میں یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی سمیت بعض بیرونِ ملک گروہوں کو ایکشن کمیٹی کے حامی قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ اور یورپ میں موجود بعض کاروباری شخصیات اور دیگر ذرائع سے مبینہ طور پر مالی معاونت فراہم کی گئی، جبکہ رقوم ہنڈی اور حوالہ کے ذریعے منتقل ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

تاہم رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ ابتدا میں بڑی تعداد میں عام شہری حقیقی معاشی مشکلات کے باعث اس تحریک کا حصہ بنے تھے، جبکہ بعد میں تنظیم کے بعض رہنماؤں نے اس کی بدلتی ہوئی سمت سے اختلاف کرتے ہوئے خود کو الگ کر لیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے