اسلام آباد (کیو این این ورلڈ): بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال میں طبی معائنے اور مختصر قیام کے بعد سخت سکیورٹی میں واپس اڈیالا جیل منتقل کردیا گیا۔ جیل ذرائع کے مطابق عمران خان کو دوبارہ ان کے سیل میں منتقل کردیا گیا ہے۔
اس سے قبل بانی پی ٹی آئی کو نصف شب کے قریب انتہائی سخت سکیورٹی میں اڈیالا جیل سے شفا انٹرنیشنل اسپتال لایا گیا تھا۔ ہسپتال کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی جبکہ سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق عمران خان کا طبی معائنہ کیا جانا تھا، جس کے لیے 6 ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم کی جانب سے چیک اپ کے انتظامات کیے گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق طبی معائنے کے بعد عمران خان کو ہسپتال میں داخل رکھنے یا واپس جیل منتقل کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جانا تھا، تاہم مختصر قیام اور معائنے کے بعد انہیں واپس اڈیالا جیل منتقل کردیا گیا۔
عمران خان کے معالج اور اہل خانہ بھی اڈیالا جیل پہنچے تھے۔ ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ڈاکٹر فیصل گیٹ نمبر 5 سے جیل کے اندر داخل ہوئے جبکہ نورین نیازی جیل کے باہر موجود رہیں۔
عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنا اسلام آباد انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور انتظامیہ اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ نے بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقلی کے معاملے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں جو ریلیف دیا گیا وہ قانون کے مطابق نہیں۔ انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا اور بعد ازاں ڈاکٹروں کی رپورٹ کی بنیاد پر انہیں علاج کے لیے بیرون ملک بھیجا گیا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج کے لیے انہیں جیل سے ہسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔ بعد ازاں بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے خلاف دائر نظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے بعض اعتراضات عائد کرکے واپس کردی تھی۔
ادھر وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بیرون ملک علاج کے لیے بھیجے جانے کے امکان کا بھی اظہار کیا ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔