ایران کی حکمت عملی کیا ہے؟ خلیجی ممالک پر حملے، مگر امریکی بحری اثاثوں اور اسرائیل سے گریز؛ الجزیرہ کی رپورٹ

دوحہ/الجزیرہ (ترجمہ و تلخیص ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی)الجزیرہ کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ایران نے حالیہ کشیدگی کے دوران ایک ایسی حکمت عملی اختیار کی ہے جس کے تحت وہ خلیجی ممالک اور اردن میں فوجی و سول تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ اپنی ساحلی حدود کے قریب موجود امریکی بحری اثاثوں اور اسرائیل پر براہِ راست حملوں سے گریز کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر دباؤ بڑھانا ہے، تاہم ایران جنگ کا دائرہ مزید وسیع نہیں کرنا چاہتا۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ایران میں ریلوے اسٹیشنوں، بجلی گھروں، ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس اور پینے کے پانی کے نظام کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کویت اور بحرین میں ہوائی اڈوں، پانی صاف کرنے والے پلانٹس اور بجلی کی تنصیبات پر حملے کیے۔

لبنانی فوج کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل اور عسکری تجزیہ کار الیاس حنا نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ اگر ایران امریکی بحری اثاثوں کو نشانہ بناتا ہے تو اسے امریکہ کی جانب سے انتہائی سخت اور تباہ کن ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی بحری تنصیبات جدید فضائی دفاعی نظام سے لیس اور انتہائی محفوظ ہیں، اس لیے انہیں نشانہ بنانا عسکری لحاظ سے بھی مشکل ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق تہران یونیورسٹی میں سیاسیات کی پروفیسر عاطفہ تقیانی کا مؤقف ہے کہ امریکہ خلیجی ممالک، خصوصاً کویت، کو ایرانی شہری تنصیبات کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

ان کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ اگر کسی ملک کی سرزمین سے اس کے خلاف حملے کیے جائیں تو بین الاقوامی قانون کے تحت اسے جوابی کارروائی کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحری جہاز جان بوجھ کر ایرانی شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ خطے کے ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو اور ایران کے لیے مؤثر جواب دینا مشکل بنایا جا سکے۔

کویت یونیورسٹی کے سیاسیات کے پروفیسر عبداللہ الشایجی نے ایرانی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے پرانا ایرانی پروپیگنڈا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دعویٰ حقیقت پسندانہ نہیں کہ امریکی حملے خلیجی ممالک سے کیے جا رہے ہیں، کیونکہ بیشتر حملے امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں ’’جارج بش‘‘ اور ’’ابراہم لنکن‘‘ سے کیے جا رہے ہیں جو ایرانی ساحل سے تقریباً 150 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہیں۔

الشایجی کے مطابق خلیجی ریاستوں نے امریکہ کو واضح طور پر آگاہ کر رکھا ہے کہ ان کی سرزمین ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی، جبکہ ایران اب تک اپنے دعووں کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کر سکا۔

انہوں نے کہا کہ ایران بخوبی جانتا ہے کہ اگر اس نے امریکی بحری جہازوں پر حملہ کر کے کسی امریکی فوجی کو ہلاک کیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، اسی لیے وہ براہِ راست امریکی اہداف کے بجائے خلیجی ممالک کو نشانہ بنا کر واشنگٹن پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق عبداللہ الشایجی نے کہا کہ شدید گرمی کے موسم میں کویت جیسے ملک میں پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو نشانہ بنانا نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ شہری آبادی کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی دانستہ کوشش بھی ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ کویت خلیجی ممالک میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا سب سے بڑا مخالف رہا ہے، اس کے باوجود ایرانی حملوں کا سب سے زیادہ بوجھ اسی ملک نے برداشت کیا ہے۔

ان کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی اسے مزید سفارتی تنہائی کی طرف دھکیل رہی ہے جبکہ خلیجی ممالک کو بھی اس جنگ کے بعد علاقائی سلامتی کا نیا نظام تشکیل دینا ہوگا اور مکمل طور پر امریکی تحفظ پر انحصار کم کرنا ہوگا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق موجودہ جنگ کا آغاز اس وقت ہوا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف مشترکہ حملوں کا حکم دیا۔ بعد ازاں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات جاری رکھنے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی، تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے پر اس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

قطر یونیورسٹی کے شعبۂ بین الاقوامی امور کے اسسٹنٹ پروفیسر عبداللہ بندر العتیبی نے بھی الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ نہ امریکہ اور نہ ہی ایران مکمل جنگ چاہتے ہیں، اسی لیے دونوں اپنے اہداف کے انتخاب میں احتیاط برت رہے ہیں۔

ان کے مطابق ایران امریکی بحری اثاثوں کو نشانہ بنانے سے اس لیے گریز کر رہا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے وہ خود کو شدید تباہ کن ردعمل کے سامنے کھڑا کر دے گا۔ چنانچہ تہران خلیجی ممالک کے ذریعے واشنگٹن پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے، اگرچہ اس کی کامیابی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

العتيبی کا کہنا ہے کہ ایران نے اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ سے آپریٹ کرنے والے امریکی ری فیولنگ طیاروں کو بھی نشانہ نہیں بنایا کیونکہ وہ جنگ کا دائرہ مزید وسیع نہیں کرنا چاہتا۔ ان کے مطابق تہران خلیجی ممالک کو نسبتاً آسان ہدف سمجھتا ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ یہ ممالک براہِ راست جنگ میں شامل نہیں ہوں گے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی ایرانی حملے کے نتیجے میں کسی خلیجی ملک میں بڑی تعداد میں شہری ہلاکتیں ہوئیں تو صورتحال مزید سنگین اور خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے۔

الجزیرہ کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی توجہ آبنائے ہرمز پر مرکوز ہے کیونکہ واشنگٹن ایران کے اس تزویراتی دباؤ کے ہتھیار کو اس کے لیے سیاسی بوجھ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

العتيبی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورۂ مسقط کے صرف ایک روز بعد عمان پر حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان سفارتی کوششیں مطلوبہ نتائج نہیں دے سکیں۔ ان کے بقول تہران آبنائے ہرمز پر مکمل اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتا ہے اور اسے عمان کے ساتھ بانٹنے پر آمادہ نہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے اتحادی یمنی حوثی اب تک اس محاذ آرائی سے بڑی حد تک دور رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق حوثی تحریک لبنان میں حزب اللہ اور عراق میں ایران نواز گروہوں کو ہونے والے نقصانات سے سبق سیکھتے ہوئے براہِ راست تصادم سے گریز کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں ایران پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون الجزیرہ کی تجزیاتی رپورٹ پر مبنی ہے اور اس میں شامل آراء متعلقہ ماہرین اور تجزیہ کاروں کی ہیں۔ ان آراء کو الجزیرہ یا کیو این این ورلڈ کا ادارتی مؤقف تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے