گوجرانوالہ (کیواین این ورلڈ بیوروچیف محمدرمضان نوشاہی): گوجرانوالہ صدر وزیرآباد کے علاقے قلعہ سنگھیاں میں راستے کے تنازع نے شدت اختیار کرلی ہے، جس کے باعث فریقین کے درمیان کشیدگی بڑھنے اور کسی بھی وقت ناخوشگوار واقعہ پیش آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تنازع اس بات پر ہے کہ متنازع راستہ نجی ملکیت کا حصہ ہے یا سرکاری راستہ۔
ایک فریق کا مؤقف ہے کہ مخالف فریق مبینہ طور پر ان کی ذاتی زمین سے زبردستی راستہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ان کے مطابق متعلقہ زمین ان کی ذاتی ملکیت ہے اور مخالف فریق کا اس میں کوئی حق یا عمل دخل نہیں۔ دوسری جانب مخالف فریق اس راستے کو سرکاری راستہ قرار دے رہا ہے۔ فریق اول کا کہنا ہے کہ اگر یہ سرکاری راستہ ہے تو اس کی نشاندہی سرکاری ریکارڈ اور موقع پر پیمائش کے ذریعے واضح کی جانی چاہیے۔
راستے کا یہ تنازع اب کورٹ کچہری تک بھی پہنچ چکا ہے، تاہم فریقین کے درمیان اختلاف ختم نہ ہونے کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ متاثرہ فریق کا الزام ہے کہ گوگل میپنگ کی رقم ادا کیے جانے کے باوجود مبینہ طور پر ملی بھگت کے باعث موقع پر پیمائش اور حد بندی کا عمل مکمل نہیں کیا جا رہا۔
متاثرہ فریق کا کہنا ہے کہ معاملے کا بنیادی حل انتہائی سادہ ہے کہ متعلقہ پٹواری موقع پر پہنچ کر سرکاری ریکارڈ، لٹھا اور پیمائش کی بنیاد پر زمین کی حدود اور راستے کی اصل حیثیت واضح کرے۔ موقع پر واضح نشانات لگا دیے جائیں کہ راستہ کہاں سے گزر رہا ہے اور نجی ملکیت کی حدود کہاں تک ہیں، تاکہ فریقین کے درمیان جاری تنازع کا مستقل حل ممکن ہو سکے۔
اہل علاقہ اور متاثرہ فریق نے ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ، کمشنر گوجرانوالہ اور اسسٹنٹ کمشنر وزیرآباد سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے موقع کا معائنہ کرایا جائے، متعلقہ ریکارڈ کی روشنی میں راستے کی حیثیت اور زمین کی حدود واضح کی جائیں اور موقع پر نشانات لگوائے جائیں۔
متاثرہ فریق کا کہنا ہے کہ بروقت سرکاری مداخلت اور ریکارڈ کے مطابق حد بندی نہ کی گئی تو راستے کا یہ تنازع مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے قبل معاملے کو قانون اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق فوری طور پر حل کیا جائے۔