اسلام آباد(کیو این این ورلڈ) وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی پہلی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کی ترقی، اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید تعلیم اور روزگار کے سفر میں شامل نہ کیا گیا تو پاکستان دیگر ممالک سے مزید پیچھے رہ جائے گا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے رواں سال نوجوانوں کی ترقی کیلئے خاطر خواہ رقم مختص کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کے تمام بچوں کو تعلیم کے مساوی مواقع میسر نہ ہوں تو یہ قائداعظم کا پاکستان نہیں ہوسکتا۔
وزیراعظم نے کہا کہ معاشرے میں تعلیمی سہولیات کے حوالے سے واضح تضاد موجود ہے، جہاں اشرافیہ کے بچوں کو بہترین تعلیمی سہولیات میسر آتی ہیں، جبکہ غریب اور دور دراز علاقوں کے بچے بنیادی تعلیمی مواقع سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے ایچی سن کالج کو اشرافیہ کی تعلیم کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں غریب بچے کے داخلے کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ یہی تضاد وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث پاکستان تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے رہ گیا۔ حکومت نے دور دراز علاقوں کے غریب اور مستحق طلبہ کو تعلیمی میدان میں آگے لانے کیلئے اقدامات کیے ہیں اور دانش اسکولوں کا دائرہ کار دیگر صوبوں تک بھی وسیع کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی دانش اسکول قائم کیے جا رہے ہیں، جبکہ اسلام آباد میں دانش یونیورسٹی بھی قائم کی جا رہی ہے جہاں اگلے سال سے کلاسز شروع ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ دانش یونیورسٹی میں نوجوانوں کو جدید تعلیم فراہم کی جائے گی۔
یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے حوالے سے وزیراعظم نے بتایا کہ مجموعی لیبر فورس میں خواتین کیلئے 35 فیصد کوٹہ مختص کیا جائے گا جبکہ ہر سال اسٹارٹ اپس کیلئے بھی 10 فیصد کوٹہ مختص کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ مالی وسائل کی کمی نوجوانوں کی اعلیٰ تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ اگر کسی طالب علم کے پاس فیس ادا کرنے کیلئے رقم نہیں لیکن اس کے تعلیمی نتائج اچھے ہیں تو دانش یونیورسٹی کے دروازے اس کیلئے کھلے ہوں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کی بہتری، اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک تقریباً 7 لاکھ قابل اور مستحق طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے جاچکے ہیں اور یہ لیپ ٹاپ میرٹ کی بنیاد پر دیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ لیپ ٹاپ تقسیم کرنے پر انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا اور الزام لگایا گیا کہ بچوں کو رشوت کے طور پر لیپ ٹاپ دیے جا رہے ہیں، تاہم حکومت نے ہمیشہ میرٹ کو ترجیح دی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مزید اعلان کیا کہ رواں سال میرٹ کی بنیاد پر ڈھائی لاکھ طلبہ و طالبات میں بطور انعام کروم بکس بھی تقسیم کی جائیں گی، تاکہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کیے جاسکیں۔