رینالہ خورد (نامہ نگار): اندرون شہر نہر لوئر باری دوآب کے سنگم اور واٹر فلٹریشن پلانٹ کے ساتھ قائم ستھرا پنجاب کا فلتھ ڈپو شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بن گیا۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ فلتھ ڈپو سے اٹھنے والی بدبو اور تعفن کے باعث ماحول آلودہ ہو رہا ہے جبکہ جراثیم اور مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق شہریوں کا کہنا ہے کہ محکمہ ماحولیات اور حفظانِ صحت کے ضوابط کے تحت فلتھ ڈپو شہری آبادی سے مناسب فاصلے پر قائم کیا جانا چاہیے، تاہم رینالہ خورد میں مبینہ طور پر ان ضوابط کو نظرانداز کرتے ہوئے ستھرا پنجاب کی مقامی انتظامیہ نے شہر سے گزرنے والی نہر لوئر باری دوآب کے سنگم اور واٹر فلٹریشن پلانٹ کی دیوار کے ساتھ فلتھ ڈپو قائم کر رکھا ہے۔
مقامی شہریوں کے مطابق آبادی کے اندر کچرے کا ڈپو قائم ہونے سے نہ صرف بدبو اور تعفن پھیل رہا ہے بلکہ کچرے کی موجودگی مچھروں، مکھیوں اور دیگر جراثیم کی افزائش کا سبب بھی بن رہی ہے، جس سے شہریوں کی صحت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ واٹر فلٹریشن پلانٹ کے قریب کچرا جمع ہونے سے صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے بھی خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب محکمہ انہار کی جانب سے فلتھ ڈپو کو شہری حدود سے باہر منتقل کرنے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر آفس کو مراسلہ بھی ارسال کیا جاچکا ہے، تاہم مقامی شہریوں کے مطابق مراسلے کو تقریباً 11 ماہ گزرنے کے باوجود تاحال اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے مسئلہ برقرار رہنے کے باوجود متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ ہونا تشویشناک ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر ساہیوال، ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ اور اسسٹنٹ کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کی صحت اور ماحولیاتی تحفظ کے پیش نظر فلتھ ڈپو کو فوری طور پر آبادی سے باہر منتقل کیا جائے اور شہر میں صفائی کے لیے محفوظ اور مناسب مقام مختص کیا جائے۔
