فاٹا کی سابقہ حیثیت بحال کیے بغیر نئے صوبے مسترد، فاٹا لویہ جرگہ کا اعلان

خیبر(کیو این این ورلڈ/ بیوروچیف نصیب شاہ شینواری) جمرود: فاٹا لویہ جرگہ سپریم کونسل نے خیبرپختونخوا کو نئے صوبوں میں تقسیم کرنے کی تجاویز اور مجوزہ نقشوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فاٹا کی 9/11 سے قبل سابقہ حیثیت بحال کیے بغیر نئے صوبوں کی تشکیل کا کوئی فیصلہ قبائلی عوام کو قبول نہیں ہوگا۔ جرگہ نے مطالبہ کیا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل سے قبل فاٹا بشمول تمام ایف آرز کی سابقہ حیثیت فوری طور پر بحال کی جائے، جس کے بعد قبائلی عوام اپنی مرضی اور اکثریتی فیصلے سے اپنے مستقبل کا تعین کریں گے۔

ضلع خیبر کے علاقے جمرود، شاہ کس میں حاجی بسم اللہ خان آفریدی کے حجرے میں فاٹا لویہ جرگہ سپریم کونسل کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں قبائلی مشران، عمائدین اور 24 رکنی تیراہ کمیٹی کے ارکان سمیت بڑی تعداد میں نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا کو چار صوبوں میں تقسیم کرنے سے متعلق زیرِ گردش تجاویز اور مجوزہ نقشوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

جرگہ کے شرکاء نے کہا کہ مجوزہ نقشوں میں فاٹا کے علاقوں کو بھی تقسیم کرنے کی تجاویز شامل ہیں، جسے قبائلی عوام کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے فاٹا کی انضمام سے قبل والی حیثیت بحال کی جائے اور اس کے بعد قبائلی عوام سے ان کی رائے لی جائے کہ وہ نیا صوبہ چاہتے ہیں یا موجودہ انتظامی حیثیت میں کوئی اور فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔

جرگہ نے خبردار کیا کہ اگر ایک مرتبہ پھر قبائلی عوام کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ مسلط کیا گیا تو اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ فاٹا انضمام کے بعد سے قبائلی علاقوں میں پیدا ہونے والے مسائل کے باعث عوام میں بے چینی موجود ہے اور وہ مزید کسی ایسے فیصلے کو قبول نہیں کریں گے جو ان کی مشاورت کے بغیر کیا جائے۔

اجلاس میں اس معاملے پر پشاور میں گرینڈ جرگہ بلانے کی تجویز بھی پیش کی گئی، جس میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزیر امیر مقام، سیاسی و سماجی جماعتوں اور دیگر تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مدعو کرکے فاٹا لویہ جرگہ کا موقف پیش کیا جائے۔ اسلام آباد میں آل اسٹیک ہولڈرز اجلاس کے انعقاد اور پشاور کے تاتارا پارک میں تمام قبائلی اضلاع سے تقریباً 5 ہزار افراد کو جمع کرکے احتجاجی طور پر اپنا موقف حکومت کے سامنے رکھنے کی تجاویز بھی زیرِ غور آئیں۔

جرگہ کے مطابق ان میں سے کسی ایک تجویز پر جلد عملدرآمد کا اعلان کیا جائے گا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ فاٹا انضمام سے متعلق مقدمہ سپریم کورٹ سے وفاقی آئینی عدالت منتقل ہوچکا ہے اور عدالتوں کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد کیس کی جلد سماعت کی امید ہے۔

اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں نئے صوبوں کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ فاٹا کی 9/11 سے قبل والی حیثیت فوری طور پر بحال کی جائے اور اس میں تمام ایف آرز کو بھی شامل کیا جائے۔ جرگہ نے واضح کیا کہ ایف آرز کے بغیر فاٹا کے مستقبل سے متعلق کوئی بھی فیصلہ قابل قبول نہیں ہوگا۔

فاٹا میں ٹیکسز کے نفاذ کے معاملے پر بھی جرگے نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع، فاٹا اور پاٹا میں ہر قسم کے ٹیکسز کے نفاذ کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ جرگہ نے خبردار کیا کہ مطالبہ منظور نہ ہونے کی صورت میں سخت احتجاج کیا جائے گا۔

قبائلی اضلاع میں پٹوار نظام کے نفاذ کو بھی فاٹا لویہ جرگہ نے مسترد کردیا۔ جرگے کا کہنا تھا کہ پٹوار نظام سے قبائلی علاقوں میں مسائل اور تنازعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس معاملے پر قوم کوکی خیل تحصیل جمرود میں جلد جرگہ منعقد کرکے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ بعد ازاں فاٹا لویہ جرگہ کے پلیٹ فارم سے بھی آئندہ کے اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔

تیراہ متاثرین کے معاملے پر جرگہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 24 رکنی تیراہ کمیٹی کے ساتھ کیے گئے معاہدوں اور وعدوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔ جرگے نے متاثرین کے لیے اعلان کردہ مراعات فوری فراہم کرنے اور طے شدہ شیڈول کے مطابق انہیں باعزت طریقے سے اپنے علاقوں میں واپس جانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ فاٹا لویہ جرگہ نے تیراہ متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔

امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جرگے نے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ قبائلی علاقوں، خیبرپختونخوا اور ملک بھر میں امن و امان یقینی بنایا جائے، عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے اور بھتہ خوری کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

سابقہ خاصہ دار فورس کمیٹی کے احتجاج کے حوالے سے جرگے نے کہا کہ تاحال مذکورہ کمیٹی کی جانب سے فاٹا لویہ جرگہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ جرگہ کے مطابق رابطہ ہونے کی صورت میں معاملے کا جائزہ لے کر موقف اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے