لنڈی کوتل(کیو این این ورلڈ/نامہ نگار) آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) خیبر پختونخوا کی کال پر آج لنڈی کوتل میں سرکاری ملازمین، اساتذہ اور مختلف محکموں کے اہلکاروں نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ملازمین کے حقوق کے حق میں نعرے درج تھے۔
مقررین نے کہا کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں سرکاری ملازمین شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے تنخواہوں اور الاؤنسز میں فوری اضافہ ناگزیر ہوچکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہاؤس رینٹ الاؤنس 2008 کی شرح کے بجائے 2026 کی موجودہ شرح کے مطابق دیا جائے، ڈسپرٹی الاؤنس کو بھی مہنگائی کے تناسب سے بڑھایا جائے جبکہ ایڈہاک ریلیف کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرکے پے اسکیلز کو ازسرِ نو ریوائز کیا جائے۔
مقررین نے سرکاری ملازمین کو ٹیکس سے استثنیٰ دینے، پنشن کے تحفظ، میڈیکل اور کنوینس الاؤنس میں اضافے، سرکاری اداروں کی نجکاری کے خاتمے اور دیگر دیرینہ مسائل کے فوری حل کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی اداروں کی نجکاری کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ اس سے ملازمین اور عوام دونوں متاثر ہوں گے۔
احتجاجی مظاہرے سے تنظیم اساتذہ ضلع خیبر کے صدر شریف اللہ آفریدی، ملک نادر شاہ، اے ٹی اے کے خیر اللہ، اپٹا کے ضلعی سیکرٹری اجمل خان، ملگری استازان کے نمائندوں اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ مقررین نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ملازمین کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔
مظاہرے کے اختتام پر شرکاء نے حکومت سے اپیل کی کہ سرکاری ملازمین کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں تاکہ ملازمین میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔